(۲۰۲۹۶) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ الأَصْبَہَانِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِی الأَسْوَدِ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنِ الأَسْوَدِ قَالَ : کَانَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِذَا قَدِمَ عَلَیْہِ الْوُفُودُ سَأَلَہُمْ عَنْ أَمِیرِہِمْ أَیَعُودُ الْمَرِیضَ؟ أَیُجِیبُ الْعَبْدَ؟ کَیْفَ صَنِیعُہُ؟ مَنْ یَقُومُ عَلَی بَابِہِ فَإِنْ قَالُوا لِخَصْلَۃٍ مِنْہَا لاَ عَزَلَہُ۔ [ضعیف]
(٢٠٢٩٦) حضرت اسود فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) کے پاس وفد آتے تو ان سے سوال کرتے : کیا تمہارا میر بیماروں کی تیمارداری کرتا ہے ؟ کیا وہ غلام کی دعوت قبول کرتا ہے ؟ اس کا کام کیا ہے ؟ اس کے دروازے پر کون ہوتا ہے ؟ اگر ان خصلتوں میں سے کسی کا جواب نہ میں دیتے تو وہ اس امیر کو معزول کردیتے۔