(۲۰۳۰۸) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُوسُفَ قَالَ ذَکَرَ سُفْیَانُ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ قَالَ : سَأَلَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنْ قَاضِی الْکُوفَۃِ وَقَالَ الْقَاضِی لاَ یَنْبَغِی أَنْ یَکُونَ قَاضِیًا حَتَّی یَکُونَ فِیہِ خَمْسُ خِصَالٍ عَفِیفٌ حَلِیمٌ عَالِمٌ بِمَا کَانَ قَبْلَہُ یَسْتَشِیرُ ذَوِی الأَلْبَابِ لاَ یُبَالِی بِمَلاَمَۃِ النَّاسِ۔ [صحیح]
(٢٠٣٠٨) یحییٰ بن سعید فرماتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز نے کوفہ کے قاضی سے سوال کیا تو قاضی نے جواب دیا : قاضی بننے کے لیے پانچ خوبیاں ہونا ضروری ہیں 1 پاک دامن 2 بردبار 3 اپنے سے پہلے کو ماننے والا ہو 4 عقل والوں سے مشورہ لے 5 ۔ لوگوں کی ملامت کی پروا نہ کرے۔