(۲۰۳۱۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْعَبْدَوِیُّ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ الشَّیْبَانِیُّ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : کَتَبَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِلَی شُرَیْحٍ إِذَا أَتَاکَ أَمْرٌ فِی کِتَابِ اللَّہِ تَعَالَی فَاقْضِ بِہِ وَلاَ یَلْفِتَنَّکَ الرِّجَالُ عَنْہُ فَإِنْ لَمْ یَکُنْ فِی کِتَابِ اللَّہِ وَکَانَ فِی سُنَّۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَاقْضِ بِہِ فَإِنْ لَمْ یَکُنْ فِی کِتَابِ اللَّہِ وَلاَ فِی سُنَّۃِ رَسُولِہِ فَاقْضِ بِمَا قَضَی بِہِ أَئِمَّۃُ الْہُدَی فَإِنْ لَمْ یَکُنْ فِی کِتَابِ اللَّہِ وَلاَ فِی سُنَّۃِ رَسُولِہِ -ﷺ- وَلاَ فِیمَا قَضَی بِہِ أَئِمَّۃُ الْہُدَی فَأَنْتَ بِالْخِیَارِ إِنْ شِئْتَ تَجْتَہِدُ رَأْیَکَ وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تُؤَامِرَنِی وَلاَ أَرَی مُؤَامَرَتَکَ إِیَّایَ إِلاَّ أَسْلَمَ لَکَ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ فَأَخْبَرَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ مَوْضِعِ الْمُؤَامَرَۃِ وَہِیَ الْمُشَاوَرَۃُ فَرُبَّمَا یَکُونُ عِنْدَہُ مِنَ الأَصُولِ مَا لَمْ یَبْلُغْ شُرَیْحًا فَیُخْبِرُہُ بِہِ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [صحیح]
(٢٠٣١٣) شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے قاضی شریح کو لکھا : جب معاملہ اللہ کی کتاب میں ہو تو اس کے مطابق فیصلہ کرنا اور مرد تمہاری طرف جھانکیں بھی نہیں۔ اگر کتاب اللہ میں نہ ہو تو سنت کے موافق فیصلہ کرنا۔ اگر نہ کتاب اللہ اور نہ ہی سنت رسول میں ہو تو پھر ویسے فیصلہ کرنا جیسے ہدایت والے ائمہ نے کیا۔ اگر کتاب اللہ، سنت رسول اور ائمہکا فیصلہ موجود نہ ہو تو آپ کو اختیا رہے اگر آپ چاہیں تو خود اجتہاد کرلو ورنہ مجھ سے مشورہ کرلو، لیکن پھر بھی میں تیرا مشورہ ہی تسلیم کروں گا۔
شیخ فرماتے ہیں : حضرت عمر (رض) نے مشاورت کی جگہیں بتائیں کہ وہ اصول جن تک یہ نہ پہنچ سکیں، وہ پوچھ لیتے تو ان کو بتادیا جاتا۔