(۲۰۳۴۱) أَخْبَرَنَا الشَّرِیفُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِیُّ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی شُرَیْحٍ أَنْبَأَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَیْدٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَیُّوبَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ عَنْ مَیْمُونِ بْنِ مِہْرَانَ قَالَ : کَانَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِذَا وَرَدَ عَلَیْہِ خَصْمٌ نَظَرَ فِی کِتَابِ اللَّہِ فَإِنْ وَجَدَ فِیہِ مَا یَقْضِی بِہِ قَضَی بِہِ بَیْنَہُمْ فَإِنْ لَمْ یَجِدْ فِی الْکِتَابِ نَظَرَ ہَلْ کَانَتْ مِنَ النَّبِیِّ -ﷺ- فِیہِ سُنَّۃٌ فَإِنْ عَلِمَہَا قَضَی بِہَا وَإِنْ لَمْ یَعْلَمْ خَرَجَ فَسَأَلَ الْمُسْلِمِینَ فَقَالَ أَتَانِی کَذَا وَکَذَا فَنَظَرْتُ فِی کِتَابِ اللَّہِ وَفِی سُنَّۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَلَمْ أَجِدْ فِی ذَلِکَ شَیْئًا فَہَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ نَبِیَّ اللَّہِ -ﷺ- قَضَی فِی ذَلِکَ بِقَضَائٍ فَرُبَّمَا قَامَ إِلَیْہِ الرَّہْطُ فَقَالُوا نَعَمْ قَضَی فِیہِ بِکَذَا وَکَذَا فَیَأْخُذُ بِقَضَائِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-
قَالَ جَعْفَرٌ وَحَدَّثَنِی غَیْرُ مَیْمُونٍ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ یَقُولُ عِنْدَ ذَلِکَ الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی جَعَلَ فِینَا مَنْ یَحْفَظُ عَنْ نَبِیِّنَا -ﷺ- وَإِنْ أَعْیَاہُ ذَلِکَ دَعَا رُئُ وسَ الْمُسْلِمِینَ وَعُلَمَائَ ہُمْ فَاسْتَشَارَہُمْ فَإِذَا اجْتَمَعَ رَأْیُہُمْ عَلَی الأَمْرِ قَضَی بِہِ
قَالَ جَعْفَرٌ وَحَدَّثَنِی مَیْمُونٌ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ یَفْعَلُ ذَلِکَ فَإِنْ أَعْیَاہُ أَنْ یَجِدَ فِی الْقُرْآنِ وَالسُّنَّۃِ نَظَرَ ہَلْ کَانَ لأَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِیہِ قَضَاء ٌ فَإِنْ وَجَدَ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَدْ قَضَی فِیہِ بِقَضَائٍ قَضَی بِہِ وَإِلاَ دَعَا رُئُ وسَ الْمُسْلِمِینَ وَعُلَمَائَ ہُمْ فَاسْتَشَارَہُمْ فَإِذَا اجْتَمَعُوا عَلَی الأَمْرِ قَضَی بَیْنَہُمْ۔ [صحیح]
(٢٠٣٤١) میمون بن مہران فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر (رض) کے پاس جب بھی فیصلہ آتا تو اللہ کی کتاب میں دیکھتے۔ اگر کتاب اللہ میں موجود ہوتا تو اس کے ذریعہ فیصلہ فرما دیتے۔ اگر کتاب اللہ میں نہ پاتے تو پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کو دیکھتے۔ اگر جان لیتے تو اس کے مطابق فیصلہ فرماتے۔ اگر معلوم نہ ہوتا تو مسلمانوں کی طرف نکلتے اور فرماتے : میرے پاس فلاں فیصلہ آیا ہے، میں نے کتاب اللہ اور سنت رسول میں کچھ نہیں پایا۔ کیا تمہارے علم میں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے متعلق کوئی فیصلہکیاہو۔ بعض دفعہ کوئی جماعت ان کی طرف جاتی اور کہتی کہ ہاں اس بارے میں یہ فیصلہ ہوا تھا تو آپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیصلے کے مطابق فیصلہ کردیتے۔
جعفر فرماتے ہیں : میمون کے علاوہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر (رض) اس وقت فرماتے کہ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے توفیق دی کہ ہم میں سے بعض اس کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی فرمان کو یاد رکھنے والے ہیں۔ اگر کسی کو یاد ہوتا تو تمام لوگوں کو سامنے بلا کر علماء وغیرہ سے مشورہ کرتے۔ ان کی رائے متفق علیہ ہوتی تو اس کے مطابق فیصلہ فرما دیتے۔
(ب) جعفر فرماتے ہیں : حضرت میمون بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) بھی اس طرح کرتے تھے۔ اگر اس کی اصل قرآن وسنت میں پاتے تو ٹھیک وگرنہ ابوبکر صدیق (رض) کے فیصلہ جات دیکھتے۔ اگر کوئی فیصلہ پاتے تو اس کے مطابق فیصلہ فرما دیتے، وگرنہ مسلمانوں کے سردار اور علماء سے مشورہ فرما کر اس کے مطابق فیصلہ فرماتے۔