(۲۰۳۶۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی بْنُ زَکَرِیَّا بْنِ دَاوُدَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِیُّ عَنْ أَشْعَثَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ مُرَّۃَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی قَوْلِہِ عَزَّ وَجَلَّ {وَدَاوُدَ وَسُلَیْمَانَ إِذْ یَحْکُمَانِ فِی الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِیہِ غَنَمُ الْقَوْمِ} [الأنبیاء ۷۸-۷۹] أَنْبَتَتْ عَنَاقِیدُہُ فَأَفْسَدَتْہُ قَالَ فَقَضَی دَاوُدُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ بِالْغَنَمِ لِصَاحِبِ الْکَرْمِ فَقَالَ سُلَیْمَانُ غَیْرَ ہَذَا یَا نَبِیَّ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ وَمَا ذَاکَ قَالَ تَدْفَعُ الْکَرْمَ إِلَی صَاحِبِ الْغَنَمِ فَیَقُومُ عَلَیْہِ حَتَّی یَعُودَ کَمَا کَانَ وَتَدْفَعُ الْغَنَمَ إِلَی صَاحِبِ الْکَرْمِ فَیُصِیبُ مِنْہَا حَتَّی إِذَا کَانَ الْکَرْمُ کَمَا کَانَ دَفَعْتَ الْکَرْمَ إِلَی صَاحِبِہِ وَدَفَعْتَ الْغَنَمَ إِلَی صَاحِبِہَا قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {فَفَہَّمْنَاہَا سُلَیْمَانَ وَکُلاًّ آتَیْنَا حَکَمًا وَعِلْمًا} [الأنبیاء ۷۸-۷۹] وَرُوِّینَا عَنْ مَسْرُوقٍ وَمُجَاہِدٍ مَعْنَی ہَذَا وَقَدْ رَدَّ اللَّہُ تَعَالَی الْحُکْمَ فِی ہَذِہِ الْحَادِثِۃِ وَأَشْبَاہِہَا إِلَی مَا حَکَمَ بِہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی نَاقَۃِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ حِینَ دَخَلَتْ حَائِطًا لِقَوْمٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَأَفْسَدَتْ فَقَضَی أَنَّ حِفْظَ الأَمْوَالِ عَلَی أَہْلِہَا بِالنَّہَارِ وَعَلَی أَہْلِ الْمَوَاشِی مَا أَفْسَدَتِ الْمَوَاشِی بِاللَّیْلِ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ قَالَ الْحَسَنُ بْنُ أَبِی الْحَسَنِ : لَوْلاَ ہَذِہِ الآیَۃُ لَرَأَیْتُ أَنَّ الْحُکَّامَ قَدْ ہَلَکُوا وَلَکِنَّ اللَّہَ حَمِدَ ہَذَا بِصَوَابِہِ وَأَثْنَی عَلَی ہَذَا بِاجْتِہَادِہِ۔ [ضعیف]
(٢٠٣٦٥) مرہ ابن مسعود (رض) سے اس قول کے بارے میں نقل فرماتے ہیں : { وَ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ اِذْ یَحْکُمٰنِ فِی الْحَرْثِ اِذْ نَفَشَتْ فِیْہِ غَنَمُ الْقَوْمِ } [الأنبیاء ٧٨] کہ اس سے مراد انگور ہیں۔ انگور اگے اور انھوں نے اس کو خراب کردیا تو داؤد (علیہ السلام) نے بکریاں انگور کے باغ والے کو دے دیں۔ سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا : اے اللہ کے نبی ! فیصلہ اس کے علاوہ ہے۔ فرمانے لگے : وہ کیا ہے ؟ فرمایا : باغ بکریوں کے مالک کے حوالے کر دو ، وہ اس کی نگہبانی کرے، جب ایسا ہوجائے اور بکریاں باغ والے کو دے دو ۔ وہ ان سے فائدہ حاصل کرے۔ بعد میں باغ والے کو باغ مل جائے اور بکریوں والا اپنی بکریاں لے لے۔ اللہ کا فرمان ہے : { افَفَھَّمْنٰھَا سُلَیْمٰنَ وَ کُلًّا اٰتَیْنَاحُکْمًا وَّ عِلْمًا } [الأنبیاء ٧٩] ” کہ ہم نے سلیمان کو فیصلہ کی سمجھ عطا فرمائی۔ “ اللہ تعالیٰ نے اس جیسے حادثات میں اس جیسے فیصلوں کا حکم فرمایا۔ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے براء بن عازب کی اونٹنی کے بارے میں فیصلہ فرمایا۔ جب رات کے وقت وہ انصار کے ایک باغ میں داخل ہوئی اور باغ کو خراب کردیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دن کے وقت باغ والوں پر حفاظت کرنا ہے اور جانوروں والے رات کے وقت اپنے جانوروں کی حفاظت کریں۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : حسن بن ابی حسن فرماتے ہیں : اگر یہ آیت نہ ہوتی تو حکمران ہلاک ہوجاتے۔ لیکن اللہ کی اس پر تعریف ہے اور اس کوشش پر اس کی تعریف ہے۔