(۲۰۳۷۲) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَنْبَأَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلاَلٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ إِدْرِیسَ الأَوْدِیِّ قَالَ : أَخْرَجَ إِلَیْنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی بُرْدَۃَ کِتَابًا فَقَالَ ہَذَا کِتَابُ عُمَرَ إِلَی أَبِی مُوسَی رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَمَّا بَعْدُ لاَ یَمْنَعُکَ قَضَاء ٌ قَضَیْتَہُ بِالأَمْسِ رَاجَعْتَ الْحَقَّ فَإِنَّ الْحَقَّ قَدِیمٌ لاَ یُبْطِلُ الْحَقَّ شَیْء ٌ وَمُرَاجَعَۃُ الْحَقِّ خَیْرٌ مِنَ التَّمَادِی فِی الْبَاطِلِ۔ وَرَوَاہُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَغَیْرُہُ عَنْ سُفْیَانَ وَقَالُوا فِی الْحَدِیثِ لاَ یَمْنَعُکَ قَضَاء ٌ قَضَیْتَہُ بِالأَمْسِ رَاجَعَتَ فِیہِ نَفْسَکَ وَہُدِیتَ فِیہِ لِرُشْدِکَ أنْ تُرَاجِعَ الْحَقَّ فَإِنَّ الْحَقَّ قَدِیمٌ وَإِنَّ الْحَقَّ لاَ یُبْطِلُہُ شَیْء ٌ وَمُرَاجَعَۃُ الْحَقِّ خَیْرٌ مِنَ التَّمَادِیِّ فِی الْبَاطِلِ۔ [صحیح۔ تقدم برقم ۲۰۲۸۳]
(٢٠٣٧٢) ادریس اودی فرماتے ہیں کہ سعید بن ابی بردہ نے ایک خط دیا اور کہا : یہ خط عمربن خطاب کی جانب سے ابوموسیٰ کی جانب ہے حمدوثنا کے بعد ! فیصلہ آپ کو منع نہ کرے جو کل شام آپ نے فیصلہ کیا ہے۔ آپ نے حق کی جانب رجوع کیا ہے اور حق ہی قدیم ہے، حق کو کوئی چیز باطل نہیں کرتی اور حق کی طرف رجوع زیادہ بہتر ہے باطل میں گزر جانے سے۔
(ب) ابو سفیان کی حدیث میں ہے کہ فیصلہ آپ کو منع نہ کرے جو کل شام آپ نے کیا۔ آپ نے اپنے دل سے مشورہ کیا اور حق کی رہنمائی کی گئی۔ حق قدیم ہے اور حق کو کوئی چیز باطل نہیں کرتی اور حق کی جانب رجوع بہتر ہے باطل میں چلے جانے سے۔