hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 20381

.

سنن البيهقي

20381
Sunan Al Bayhaqi
(۲۰۳۷۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ قَالَ : لَوْ کَانَ عَلِیٌّ طَاعِنًا عَلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا یَوْمًا مِنَ الدَّہْرِ لَطَعَنَ عَلَیْہِ یَوْمَ أَتَاہُ أَہْلُ نَجْرَانَ وَکَانَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَتَبَ الْکِتَابَ بَیْنَ أَہْلِ نَجْرَانَ وَبَیْنَ النَّبِیِّ -ﷺ- فَکَثُرُوا فِی عَہْدِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حَتَّی خَافَہُمْ عَلَی النَّاسِ فَوَقَعَ بَیْنَہُمْ الاِخْتِلاَفُ فَأَتَوْا عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَسَأَلُوہُ الْبَدَلَ فَأَبْدَلَہُمْ قَالَ ثُمَّ نَدِمُوا أَوْ وُضِعَ بَیْنَہُمْ شَیْء ٌ فَأَتَوْہُ فَاسْتَقَالُوہُ فَأَبَی أَنْ یُقِیلَہُمْ فَلَمَّا وَلِیَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَتَوْہُ فَقَالُوا یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ شَفَاعَتُکَ بِلِسَانِکَ وَخَطُّکَ بِیَمِینِکَ فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : وَیْحَکُمْ إِنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ رَشِیدَ الأَمْرِ۔ [صحیح]
(٢٠٣٧٥) سالم بن ابی جعد فرماتے ہیں کہ اگر حضرت علی (رض) سیدنا عمر (رض) پر طعن کرتے تو کبھی تو اس دن کرتے جب ان کے پاس اہل نجران آتی تھے اور حضرت علی (رض) کے اہل نجران اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان خط و کتابت کیا کرتے تھے اور حضرت عمر (رض) کے دور میں زیادہ ہوگیا۔ وہ لوگوں پر ڈرے اور ان کے درمیان اختلاف واقع ہوگیا۔ وہ حضرت عمر (رض) کے پاس آئے اور تبدیلی کا مطالبہ کردیا تو اس نے ان کے کہنے کی بنا پر تبدیلی کردی۔ پھر وہ نادم ہوئے یا ان کے درمیان اختلاف پیدا ہوگیا۔ پھر انھوں نے بات کی تبدیلی چاہی لیکن انکار کردیا گیا۔ جب حضرت علی (رض) امیرالمومنین بنے تو ان کے پاس آئے اور کہنے لگے : اے امیرالمومنین ! آپ کی زبان میں شفا اور آپ کے ہاتھ کا خط۔ حضرت علی (رض) فرمانے لگے : تمہاری بربادی ! حضرت عمر (رض) معاملہ فہم انسان تھے۔