(۲۰۴۰۳) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَیْہَقِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ أَبِی سَلَمَۃَ الْمَاجِشُونُ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَبِی عَوْنٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : أَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- کِتَابُ رَجُلٍ فَقَالَ لِعَبْدِ اللَّہِ بْنِ الأَرْقَمِ أَجِبْ عَنِّی فَکَتَبَ جَوَابَہُ ثُمَّ قَرَأَہُ عَلَیْہِ فَقَالَ : أَصَبْتَ وَأَحْسَنْتَ اللَّہُمَّ وَفِّقْہُ ۔ فَلَمَّا وَلِیَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ یُشَاوِرُہُ۔ [ضعیف]
(٢٠٤٠٣) عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک آدمی کا خط آیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبداللہ بن ارقم کو حکم دیا : میری جانب سے جواب دو ۔ اس نے جواب لکھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر پڑھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو نے درست لکھا اور اچھا کیا۔ اے اللہ ! اس کو توفیق دے۔ جب حضرت عمر (رض) خلیفہ بنے تو وہ ان سے مشورہ لیا کرتے تھے۔