(۲۰۴۰۵) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ حُمَیْدٍ حَدَّثَنَا سَلَمَۃُ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- اسْتَکْتَبَ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ أَرْقَمَ فَکَانَ یَکْتُبُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَرْقَمَ وَکَانَ یُجِیبُ عَنْہُ الْمُلُوکَ فَبَلَغَ مِنْ أَمَانَتِہِ أَنَّہُ کَانَ یَأْمُرُہُ أَنْ یَکْتُبَ إِلَی بَعْضِ الْمُلُوکِ فَیَکْتُبُ ثُمَّ یَأْمُرُہُ أَنْ یَکْتُبَ وَیَخْتِمَ وَلاَ یَقْرَأَہُ لأَمَانَتِہِ عِنْدَہُ ثُمَّ اسْتَکْتَبَ أَیْضًا زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَکَانَ یَکْتُبُ الْوَحْیَ وَیَکْتُبُ إِلَی الْمُلُوکِ أَیْضًا وَکَانَ إِذَا غَابَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَرْقَمَ وَزَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَاحْتَاجَ أَنْ یَکْتُبَ إِلَی بَعْضِ أُمَرَائِ الأَجْنَادِ وَالْمُلُوکِ أَوْ یَکْتُبَ لإِنْسَانٍ کِتَابًا یُقْطِعُہُ أَمَرَ جَعْفَرًا أَنْ یَکْتُبَ وَقَدْ کَتَبَ لَہُ عُمَرُ وَعُثْمَانُ وَکَانَ زَیْدٌ وَالْمُغِیرَۃُ وَمُعَاوِیَۃُ وَخَالِدُ بْنُ سَعِیدِ بْنِ الْعَاصِ وَغَیْرُہُمْ مِمَّنْ قَدْ سُمِّیَ مِنَ الْعَرَبِ۔ [ضعیف]
(٢٠٤٠٥) عبداللہ بن زبیر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبداللہ بن ارقم کو کاتب بنایا۔ عبداللہ بن ارقم خط لکھا کرتے تھے اور وہ بادشاہوں کے جواب بھی دیتے تھے۔ یہ اس کی امانت داری تھی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بعض بادشاہوں کو خط لکھنے کے بارے میں فرماتے تھے۔ پھر وہ لکھتے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو مہر لگانے کا حکم دیتے اور وہ اسے پڑھتے نہ تھے۔ پھر اس طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زید بن ثابت (رض) کو بھی کاتب رکھا۔ وہ وحی اور بادشاہوں کو خط لکھتے تھے۔ جبعبداللہبن ارقم اور زید بن ثابت دونوں غائب ہوتیتو حضرت جعفر کو حکم فرماتے کہ وہ لشکروں، بادشاہوں یا کسی بھی انسان کو خط لکھ دیا کریں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے حضرت عمر (رض) ، عثمان ، زید، مغیرہ، معاویہ، خالد بن سعید (رض) اور ان کے علاوہ بھی کئی کاتب تھے جن کے نام لیے گئے ہیں۔