(۲۰۴۰۸) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ أَبِی الْحُنَیْنِ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنِ الأَزْہَرِ بْنِ رَاشِدٍ قَالَ : کَانَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُحَدِّثُ أَصْحَابَہُ فَإِذَا حَدَّثَہُمْ بِحَدِیثٍ لاَ یَدْرُونَ مَا ہُوَ أَتَوُا الْحَسَنَ فَفَسَّرَ لَہُمْ فَحَدَّثَہُمْ ذَاتَ یَوْمٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ تَسْتَضِیئُوا بِنَارِ الْمُشْرِکِینَ وَلاَ تَنْقُشُوا فِی خَوَاتِیمِکُمْ عَرَبِیًّا ۔ فَأَتَوُا الْحَسَنَ فَقَالُوا إِنَّ أَنَسًا حَدَّثَنَا الْیَوْمَ بِحَدِیثٍ لاَ نَدْرِی مَا ہُوَ قَالَ وَمَا حَدَّثَکُمْ فَذَکَرُوہُ قَالَ نَعَمْ أَمَّا قَوْلُہُ : لاَ تَنْقُشُوا فِی خَوَاتِیمِکُمْ عَرَبِیًّا ۔ فَإِنَّہُ یَقُولُ لاَ تَنْقُشُوا فِی خَوَاتِیمِکُمْ مُحَمَّدًا وَأَمَّا قَوْلُہُ : لاَ تَسْتَضِیئُوا بِنَارِ الْمُشْرِکِینَ ۔ فَإِنَّہُ یَقُولُ لاَ تَسْتَشِیرُوا الْمُشْرِکِینَ فِی شَیْئٍ مِنْ أُمُورِکُمْ وَتَصْدِیقُ ذَلِکَ فِی کِتَابِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَ تَتَّخِذُوا بِطَانَۃً مِنْ دُونِکُمْ لاَ یَأْلُونَکُمْ خَبَالاً} [آل عمران ۱۱۸] ۔ [ضعیف]
(٢٠٤٠٨) ازہر بن راشد فرماتے ہیں کہ انس بن مالک (رض) اپنے شاگردوں کو احادیث بیان کرتے، لیکن ان کو سمجھ نہ آتی، وہ حضرت حسن کے پاس آکر اس کی تفسیر معلوم کرتے۔ انس بن مالک نے ان کو ایک حدیث بیان کی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اپنے معاملات میں مشرکین سے مشورہ نہ کیا کرو اور نہ ہی اپنی انگوٹھی کا نقش محمد بناؤ۔ حضرت انس بن مالک (رض) کے شاگرد حضرت حسن کے پاس آئے تو انھوں نے یہ تفسیر بیان کی۔ اس کی تصدیق اللہ کی کتاب میں ہے۔ { یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَۃً مِّنْ دُوْنِکُمْ لَا یَاْلُوْنَکُمْ خَبَالًا } [آل عمران ١١٨]” اے ایمان والو ! اپنے علاوہ کسی کو دوست نہ بناؤ۔ وہ تمہارے ساتھ بخل میں کمی نہ کریں گے۔