hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 20418

.

سنن البيهقي

20418
Sunan Al Bayhaqi
(۲۰۴۱۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَحْمَدَ الْجُرْجَانِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو یَعْلَی الْمَوْصِلِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو خَیْثَمَۃَ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ : أَنَّ عُتْبَۃَ بْنَ فَرْقَدٍ بَعَثَ إِلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَعَہُ وَمَعَ غُلاَمٍ لِعُتْبَۃَ مِنْ أَذْرَبِیجَانَ بِخَبِیصٍ جَیِّدٍ صَنَعَہُ فِی السَّلاَلِی عَلَیْہَا اللُّبُودُ فَلَمَّا انْتَہَی إِلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَشَفَ عُمَرُ عَنِ الْخَبِیصِ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَیَشْبَعُ الْمُسْلِمُونَ فِی رِحَالِہِمْ مِنْ ہَذَا؟ فَقَالَ الرَّسُولُ اللَّہُمَّ لاَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : لاَ أُرِیدُ۔ وَکَتَبَ إِلَی عُتْبَۃَ : أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّہُ لَیْسَ مِنْ کَدِّکَ وَلاَ مِنْ کَدِّ أَبِیکَ وَلاَ مِنْ کَدِّ أُمِّکَ فَأَشْبِعْ مَنْ قِبَلَکَ مِنَ الْمُسْلِمِینَ فِی رِحَالِہِمْ مِمَّا تَشْبَعُ مِنْہُ فِی رَحْلِکَ ثُمَّ قَالَ ائْتَزِرُوا وَارْتَدُوا وَانْتَعِلُوا وَأَلْقُوا السَّرَاوِیلاَتِ وَالْخِفَافَ وَارْمُوا الأَغْرَاضَ وَأَلْقُوا الرُّکُبَ وَانْزُوا نَزْوًا وَعَلَیْکُمْ بِالْمَعَدِّیَّۃِ وَالْعَرَبِیَّۃِ وَذَرُوا التَّنَعُمَ وَزِیَّ الْعَجَمِ وَإِیَّاکُمْ وَلُبْسَ الْحَرِیرِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- نَہَانَا عَنْ لُبْسِ الْحَرِیرِ إِلاَّ ہَکَذَا وَوَضَعَ إِصْبَعَیْہِ السَّبَّابَۃَ وَالْوُسْطَی۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی خَیْثَمَۃَ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مُخْتَصَرًا کَمَا مَضَی۔
(٢٠٤١٢) ابوعثمان فرماتے ہیں کہ عتبہ بن فرقد نے اپنے غلام کے ساتھ عمدہ قسم کی مٹھائی حضرت عمر (رض) کے پاس روانہ کی۔ وہ سلالی نامی جگہ پر بنائی گئی تھی۔ اس کے سر پر بہترین ٹوپی تھی۔ جب وہ حضرت عمر (رض) کے پاس آیا تو انھوں نے مٹھائی کو کھولا۔ حضرت عمر (رض) نے پوچھا : کیا مسلمان اپنے گھروں میں اس سے سیر ہوتے ہیں ؟ قاصد نے نفی میں جواب دیا۔ حضرت عمر (رض) کہنے لگے : میں یہ نہیں چاہتا اور عتبہ کو خط لکھا۔ یہ تیری، تیرے باپ یا تیری ماں کی کمائی نہیں ہے۔ اس سے سیر ہو جو مسلمان اپنے گھر میں استعمال کر کے سیر ہوتے ہیں۔ پھر فرمایا : ازار بند باندھو، جوتے پہنو، چادر پہنو، شلواریں اور موزے اتار دو ۔ تیر پھینکو۔ زین کو چھوڑ دو اور کود کر سوار ہو۔ اور تم عربی زمین کو لازم پکڑو اور نعمتوں اور عجمیوں کی مشابہت کو چھوڑ دو اور ریشم پہننے سے بچو؛ کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں ریشم پہننے سے منع کیا تھا۔ صرف دو انگلی درمیانی اور شہادت والی انگلی کے برابر جائز۔