hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 20423

.

سنن البيهقي

20423
Sunan Al Bayhaqi
(۲۰۴۱۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ فَارِسٍ حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ یَزِیدَ بْنِ سَیَّارٍ الْمُؤَدِّبُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنِیہِ ابْنُ إِسْحَاقَ عَنْ عِیسَی بْنِ مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْفَغْوَائِ الْخُزَاعِیِّ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : دَعَانِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَقَدْ أَرَادَ أَنْ یَبْعَثَنِی بِمَالٍ إِلَی أَبِی سُفْیَانَ یَقْسِمُہُ فِی قُرَیْشٍ بِمَکَّۃَ بَعْدَ الْفَتْحِ فَقَالَ : الْتَمِسْ صَاحِبًا قَالَ فَجَائَ نِی عَمْرُو بْنُ أُمَیَّۃَ الضَّمْرِیُّ فَقَالَ بَلَغَنِی أَنَّکَ تُرِیدُ الْخُرُوجَ وَتَلْتَمِسُ صَاحِبًا قَالَ قُلْتُ أَجَلْ قَالَ فأَنَا لَکَ صَاحِبٌ قَالَ فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقُلْتُ قَدْ وَجَدْتُ صَاحِبًا قَالَ فَقَالَ لِی مَنْ فَقُلْتُ عَمْرُو بْنُ أُمَیَّۃَ الضَّمْرِیُّ قَالَ : إِذَا ہَبَطْتَ بِلاَدَ قَوْمِہِ فَاحْذَرْہُ فَإِنَّہُ قَدْ قَالَ الْقَائِلُ أَخُوکَ الْبَکْرِیُّ فَلاَ تَأْمَنْہُ ۔ قَالَ فَخَرَجْنَا حَتَّی إِذَا کُنَّا بِالأَبْوَائِ قَالَ إِنِّی أُرِیدُ حَاجَۃً إِلَی قَوْمِی بِوَدَّانَ فَتَلَبَّثْ لِی قُلْتُ رَاشِدًا فَلَمَّا وَلَّی ذَکَرْتُ قَوْلَ النَّبِیِّ -ﷺ- فَشَدَدْتُ عَلَی بَعِیرِی حَتَّی خَرَجْتُ أُوضِعُہُ حَتَّی إِذَا کُنْتُ بِالأَصَافِرِ إِذَا ہُوَ یُعَارِضُنِی فِی رَہْطٍ قَالَ وَأَوْضَعْتُ فَسَبَقْتُہُ فَلَمَّا رَآنِی أَنْ قَدْ فُتُّہُ انْصَرَفُوا وَجَائَ نِی فَقَالَ کَانَتْ لِی إِلَی قَوْمِی حَاجَۃٌ قَالَ قُلْتُ أَجَلْ وَمَضَیْنَا حَتَّی إِذَا قَدِمْنَا مَکَّۃَ فَدَفَعْتُ الْمَالَ إِلَی أَبِی سُفْیَانَ۔ [ضعیف]
(٢٠٤١٧) عبداللہ بن عمرو بن فغو اخزاعی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلایا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارادہ تھا کہ مجھے مال دے کر ابوسفیان کے پاس مکہ میں روانہ کریں تاکہ فتح کے بعد تقسیم کیا جاسکے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنا ساتھی تلاش کر۔ میرے پاس عمرو بن امیہ ضمری آئے اور کہنے لگے : آپ جانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ساتھی کی تلاش ہے ؟ میں نے کہا : ہاں۔ وہ کہنے لگے : میں تیرا ساتھی ہوں، میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : میں نے ساتھی پا لیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کون ؟ میں نے کہا : عمرو بن امیہ ضمری، آپ نے فرمایا : جب آپ کسی قوم کے شہر میں اتریں تو اس سے بچنا، کہنے والا کہے گا : تیرا بھائی بکری ہے، تو اس سے بےخوف نہ ہو۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ ہم ابوا نامی جگہ پر آئے، اس نے کہا : مجھے اپنی قوم میں کچھ ضروری کام ہے۔ آپ میرا انتظار کریں، میں نے کہا : درست ہے، جب وہ چلا گیا میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات یاد کی۔ میں اپنے اونٹ پر مضبوطی سے بیٹھ گیا، یہاں تک کہ میں اس کو چھوڑ کر نکل گیا۔ جب میں اصافر نامی جگہ پہنچا۔ اچانک وہ ایک گروہ میں میرے مقابل آگئے۔ کہتے ہیں : میں ان کو چھوڑ کر سبقت لے گیا۔ جب اس نے مجھے دیکھا کہ میں ان سے بچ گیا ہوں، وہ چلے گئے۔ وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا : مجھے اپنی قوم سے کام تھا۔ کہتے ہیں : میں نے کہا : ٹھک ہے ہم چلتے ہوئے مکہ آگئے، میں نے مال ابوسفیان کے حوالے کردیا۔