(۲۰۴۱۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ یُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ : أَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ شَہَادَۃَ الرَّجُلِ عَلَی الْوَصِیَّۃِ فِی صَحِیفَۃٍ مَخْتُومَۃٍ حَتَّی یَعْلَمَ مَا فِیہَا۔ وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ : أَنَّ أَبَا قِلاَبَۃَ کَانَ یَکْرَہُ أَنْ یَشْہَدَ عَلَی الصَّحِیفَۃِ الْمَخْتُومَۃِ قَالَ لَعَلَّ فِیہَا جَوْرًا۔ [حسن]
(٢٠٤١٩) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ وہ آدمی کے وصیت پر شہادت دینے کو جو مہر شدہ صحیفے میں ہو ناپسند کرتے تھے جب تک معلوم نہ ہو کہ اس میں کیا ہے۔
(ب) ابوقلابہ بھی مہر شدہ صحیفے کے اندر بند چیز کی شہادت کو ناپسند کرتے تھے۔ شاید کہ اس میں ظلم کیا گیا ہو۔