(۲۰۴۴۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَنْبَأَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ حِکَایَۃً عَنْ أَبِی بْکَرِ بْنِ عَیَّاشٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ عَنْ مُوسَی بْنِ طَرِیفٍ الأَسَدِیِّ قَالَ : دَخَلَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بَیْتَ الْمَالِ فَأَضْرَطَ بِہِ وَقَالَ لاَ أُمْسِی وَفِیکَ دِرْہَمٌ فَأَمَرَ رَجُلاً مِنْ بَنِی أَسَدٍ فَقَسَمَہُ إِلَی اللَّیْلِ فَقَالَ النَّاسُ لَوْ عَوَّضْتَہُ فَقَالَ : إِنْ شَائَ وَلَکِنَّہُ سُحْتٌ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ لاَ یَحِلُّ لأَحَدٍ أَنْ یُعْطِیَ السُّحْتَ کَمَا لاَ یَحِلُّ لأَحَدٍ أَنْ یَأْخُذَہُ وَلاَ نُرَی عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُعْطِی شَیْئًا یَرَاہُ سُحْتًا إِنْ شَائَ اللَّہُ۔
قَالَ الشَّیْخُ : رَحِمَہُ اللَّہُ إِسْنَادُہُ ضَعِیفٌ۔ مُوسَی بْنُ طَرِیفٍ لاَ یُحْتَجُّ بِہِ۔ [ضعیف]
(٢٠٤٤١) موسیٰ بن طریف اسدی فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) مسجد میں داخل ہوئے اور نہ خوش ہوئے۔ فرماتے ہیں : میں شام نہیں کروں گا کہ تیرے اندر ایک درہم بھی ہو۔ بنو اسد کے ایک آدمی کو حکم دیا اور رات تک تقسیم کردیا۔ لوگوں نے کہا : اگر آپ اس کو تبدیل کرلیتے۔ کہنے لگے : اگر اللہ چاہتا لیکن یہ ناجائز ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : حرام کمائی کسی کو دینا بھی جائز نہیں جیسے لینا جائز نہیں اور حضرت علی (رض) حرام چیز کسی کو نہ دیتے تھے۔