(۲۰۴۴۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ قَالَ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ فِی حَدِیثِ النَّبِیِّ -ﷺ- : لاَ تَعْضِیَۃَ فِی مِیرَاثٍ إِلاَّ مَا حَمَلَ الْقَسْمُ ۔ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ حَدَّثَنِیہِ حَجَّاجٌ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ صُدَیْقِ بْنِ مُوسَی عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی بْکَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ أَبِیہِ رَفَعَہُ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ قَوْلُہُ : لاَ تَعْضِیَۃَ فِی مِیرَاثٍ ۔ یَعْنِی أَنْ یَمُوتَ الْمَیِّتُ وَیَدَعَ شَیْئًا إِنْ قُسِمَ بَیْنَ وَرَثَتِہِ إِذَا أَرَادَ بَعْضُہُمُ الْقِسْمَۃَ کَانَ فِی ذَلِکَ ضَرَرٌ عَلَیْہِمْ أَوْ عَلَی بَعْضِہِمْ یَقُولُ فَلاَ یُقْسَمُ وَالتَّعْضِیَۃُ التَّفْرِیقُ وَہُوَ مَأْخُوذٌ مِنَ الإِعْضَائِ یُقَالُ عَضَیْتُ اللَّحْمَ إِذَا فَرَّقْتُہُ۔ قَالَ الزَّعْفَرَانِیُّ قَالَ الشَّافِعِیُّ فِی الْقَدِیمِ وَلاَ یَکُونُ مِثْلُ ہَذَا الْحَدِیثِ حُجَّۃً لأَنَّہُ ضَعِیفٌ وَہُوَ قَوْلُ مَنْ لَقِینَا مِنْ فُقَہَائِنَا
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَإِنَّمَا ضَعَّفَہُ لاِنْقِطَاعِہِ وَہُوَ قَوْلُ الْکَافَّۃِ۔ [ضعیف]
(٢٠٤٤٧) محمد بن ابی بکر بن حزم اپنے والد سے مرفوع حدیث بیان کرتے ہیں : ابوعبید اس قول ” لاَ تَعْضِیَۃَ فِی مِیرَاثٍ “ کے بارے میں کہتے ہیں کہ انسان فوت ہوگیا، اس نے وارثوں کی چاہت پر وراثت چھوڑی۔ ان کے درمیان تقسیم کی جائے۔ یہ ان پر تکلیف ہوگی یا بعض لوگوں کو تکلیف ہوگی، وہ کہتے : تقسیم نہ کیا جائے۔ تعضیہ کا معنی تفریق کا ہے۔ وہ اعضاء سے مشتق ہے۔ جیسے کہتے ہیں کہ میں نے گوشت ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔