(۲۰۴۷۰) وَرُوِیَ فِیہِ أَثَرٌ بِإِسْنَادٍ فِیہِ ضَعْفٌ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَوْذَبٍ الْوَاسِطِیُّ حَدَّثَنَا شُعَیْبُ بْنُ أَیُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرٍ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ مُسْلِمٍ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : نَزَلَ عَلَی عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ رَجُلٌ وَہُوَ بِالْکُوفَۃِ ثُمَّ قَدِمَ خَصْمًا لَہُ فَقَالَ لَہُ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَخَصْمٌ أَنْتَ؟ قَالَ : نَعَمْ قَالَ فَتَحَوَّلْ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- نَہَانَا أَنْ نَضِیفَ الْخَصْمَ إِلاَّ وَخَصْمُہُ مَعَہُ۔
تَابَعَہُ أَبُو مُعَاوِیَۃَ وَغَیْرُہُ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بِمَعْنَاہُ ہَکَذَا۔ [ضعیف]
(٢٠٤٧٠) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت علی (رض) کے پاس کوفہ میں آیا، پھر دوسرا جھگڑا کرنے والا بھی آگیا۔ حضرت علی (رض) نے پوچھا : تو جھگڑا کرنے والا ہے ؟ اس نے کہا : ہاں، فرمایا : جاؤ۔ کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرمایا ہے، کہ ہم کسی جھگڑا کرنے والے کی مہمانی کریں مگر یہ کہ اس کا دوسرا ساتھی بھی موجود ہو۔