(۲۰۴۹۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِیُّ وَجَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ عَنْ ہِشَامٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : دَخَلَتْ ہِنْدُ بِنْتُ عُتْبَۃَ امْرَأَۃُ أَبِی سُفْیَانَ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَتْ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ أَبَا سُفْیَانَ رَجُلٌ شَحِیحٌ لاَ یُعْطِینِی مِنَ النَّفَقَۃِ مَا یَکْفِینِی وَیَکْفِی بَنِیَّ إِلاَّ مَا أَخَذْتُ مِنْ مَالِہِ بِغَیْرِ عِلْمِہِ فَہَلْ عَلَیَّ مِنْ ذَلِکَ جُنَاحٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : خُذِی بِالْمَعْرُوفِ مَا یَکْفِیکِ وَیَکْفِی بَنِیکِ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ حُجْرٍ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ ہِشَامٍ۔
[صحیح۔ متفق علیہ]
(٢٠٤٩٨) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ابو سفیان کی بیوی ہند بنت عتبہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اور کہنے لگی : میرا خاوند ابوسفیان بخیل آدمی ہے۔ اتنا خرچہ نہیں دیتا جو مجھے اور میری اولاد کو کافی ہو۔ لیکن میں بن بتائے اس کے مال سے لے لیتی ہوں، کیا میرے اوپر گناہ ہوگا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بھلائی سے اتنا لو جتنا تجھے اور تیری اولاد کو کفایت کر جائے۔