(۲۰۵۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہَا أَخْبَرَتْہُ : أَنَّ فَاطِمَۃَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَرْسَلَتْ إِلَی أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا تَسْأَلُہُ مِیرَاثَہَا مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مِمَّا أَفَائَ اللَّہُ بِالْمَدِینَۃِ وَفَدَکَ وَمَا بَقِیَ مِنْ خُمُسِ خَیْبَرَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : لاَ نُورَثُ مَا تَرَکْنَا صَدَقَۃٌ إِنَّمَا یَأْکُلُ آلُ مُحَمَّدٍ فِی ہَذَا الْمَالِ ۔ وَإِنِّی وَاللَّہِ لاَ أُغَیِّرُ شَیْئًا مِنْ صَدَقَۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- عَنْ حَالِہَا الَّتِی کَانَتْ عَلَیْہِ فِی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَلأَعْمَلَنَّ فِیہَا بِمَا عَمِلَ بِہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَأَبَی أَبُو بَکْرٍ أَنْ یَدْفَعَ إِلَی فَاطِمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا مِنْہَا شَیْئًا وَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ بُکَیْرٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ اللَّیْثِ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(٢٠٥٠١) عروہ حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت فاطمہ (رض) نے حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی طرف کسی کو روانہ کیا۔ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی میراث کا سوال کر رہی تھیں۔ جو اللہ نے ان کو مدینہ میں دی، یعنی فدک اور خیبر کا پانچواں حصہ۔ ابوبکر صدیق (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہماری وراثت نہیں ہوتی، ہمارا باقی ماندہ مال صدقہ ہوتا ہے۔ آلِ محمد صرف اس مال سے کھائیں گے۔ ابوبکر صدیق (رض) فرماتے ہیں کہ میں اس صدقہ میں ذرہ بھی تبدیلی نہ کروں گا جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں تھا۔ ویسے ہی کروں گا جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کرتے تھے۔ ابوبکر صدیق (رض) نے فاطمہ (رض) کی طرف مال لوٹانے سے انکار کردیا۔