hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 20510

.

سنن البيهقي

20510
Sunan Al Bayhaqi
(۲۰۵۰۴) أَخْبَرَنَا الْفَقِیہُ أَبُو الْقَاسِمِ عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ الْفَامِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ وَرَجُلٌ مِنْ کِنْدَۃَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ الْحَضْرَمِیُّ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ ہَذَا قَدْ غَلَبَنِی عَلَی أَرْضِی قَدْ کَانَتْ لأَبِی فَقَالَ الْکِنْدِیُّ ہِیَ أَرْضِی فِی یَدِی أَزْرَعُہَا لَیْسَ لَہُ فِیہَا حَقٌّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لِلْحَضْرَمِیِّ : أَلَکَ بَیِّنَۃٌ؟ ۔ قَالَ : لاَ۔ قَالَ : فَلَکَ یَمِینُہُ ۔ قَالَ : یَا نَبِیَّ اللَّہِ إِنَّہُ لَیْسَ یُبَالِی مَا حَلَفَ عَلَیْہِ لَیْسَ یَتَوَرَّعُ عَنْ شَیْئٍ قَالَ لَیْسَ لَکَ إِلاَّ ذَلِکَ قَالَ فَانْطَلَقَ بِہِ لِیُحْلِفَہُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لَمَّا أَدْبَرَ : أَمَا لَئِنْ حَلَفَ عَلَی مَالٍ لِیَأْخُذَہُ ظُلْمًا فَلَیَلْقَیَنَّ اللَّہَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَہُوَ عَنْہُ مُعْرِضٌ ۔ ہَکَذَا وَجَدْتُہُ فِی کِتَابِی وَکَذَلِکَ وَجَدْتُہُ فِی کِتَابِ مُسْلِمٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ وَزُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ عَنْ أَبِی عَوَانَۃَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ عَنْ عَلْقَمَۃَ۔ وَرَوَاہُ عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ أَبِی الْحُنَیْنِ وَأَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْکَجِّیُّ وَغَیْرُہُمْ عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ فَقَالُوا فِی الْحَدِیثِ : لَیْسَ لَکَ مِنْہُ إِلاَّ ذَلِکَ ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ وَغَیْرُہُ عَنْ أَبِی الأَحْوَصِ : لَیْسَ لَکَ مِنْہُ إِلاَّ ذَلِکَ ۔ وَہَذَا لاَ یَنْفِی الْحُکْمَ بِالْعِلْمِ وَإِنَّمَا یَنْفِی أَنْ یَکُونَ لَہُ مِنْ جِہَۃِ الْمُدَّعَی عَلَیْہِ شَیْء ٌ غَیْرَ الیَمِینِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۳۹]
(٢٠٥٠٤) علقمہ بن وائل اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں ایک آدمی حضر موت سے اور دوسرا کندہ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، حضرمی کہنے لگا : اس نے میری زمین پر قبضہ کرلیا ہے جو میرے باپ کی تھی۔ کندی نے کہا : یہ زمین میری ہے میں کھیتی باڑی کرتا ہوں اس کا کوئی حق نہیں ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرمی سے کہا : کیا تیرے پاس کوئی دلیل ہے ؟ اس نے کہا : نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرے ذمہ قسم ہے تو کندی کہنے لگا : اے اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اس کو قسم اٹھانے سے کوئی چیز مانع نہیں۔ آپ نے فرمایا : تیرے لیے صرف قسم ہے تو حضرمی قسم اٹھانے کے لیے آگے بڑھا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب وہ واپس ہوا کہ اگر قسم کے ذریعہ کسی کا مال ہڑپ کرلے تو جب قیامت کے دن اللہ سے ملاقات کرے گا وہ اس سے اعراض کرنے والا ہوگا۔
(ب) ابو ولید کی حدیث میں ہے کہ تیرے لیے صرف یہی ہے۔
(ج) ابوالاحوص کی حدیث میں بھی اسی طرح ہے۔