(۲۰۵۲۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو شِہَابٍ عَبْدُ رَبِّہِ بْنُ نَافِعٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ : أَنَّ مُعَاوِیَۃَ کَتَبَ إِلَی أَبِی مُوسَی سَلْ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ رَجُلٍ دَخَل بَیْتَہُ فَإِذَا مَعَ امْرَأَتِہِ رَجُلٌ فَقَتَلَہَا أَوْ قَتَلَہُ فَسَأَلَہُ أَبُو مُوسَی فَقَالَ لَہُ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَا ذَکَّرَکَ ہَذَا إِنْ ہَذَا لَشَیْء ٌ مَا ہُوَ بِأَرْضِنَا عَزَمْتُ عَلَیْکَ۔قَالَ کَتَبَ إِلَیَّ مُعَاوِیَۃُ فِی أَنْ أَسْأَلَکَ عَنْہَا قَالَ أَنَا أَبُو حَسَنٍ إِنْ جَائَ نَا بِأَرْبَعَۃِ شُہَدَائَ وَإِلاَّ دُفِعَ بِرُمَّتِہِ۔قَالَ یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ : یُقْتَلُ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَقَدْ مَضَی مِنْ حَدِیثِ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَشَہِدَ ثَلاَثَۃٌ عَلَی رَجُلٍ عِنْدَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِالزِّنَا وَلَمْ یُثْبِتِ الرَّابِعُ فَجَلَدَ الثَّلاَثَۃَ۔ [صحیح]
(٢٠٥٢٣) سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ نے ابو موسیٰ (رض) کو خط لکھا کہ حضرت علی (رض) سے ایک آدمی کے بارے میں پوچھیں جو اپنے گھر میں داخل ہوتا ہے اس کی عورت کے ساتھ دوسرا آدمی ہے، وہ اس عورت کو یا مرد کو قتل کرے۔ ابو موسیٰ نے سوال کیا تو حضرت علی (رض) نے جواب دیا، آپ کو کچھ یاد ہے، یہ تو بڑی چیز ہے، ہمارے علاقہ میں نہیں کہ میں آپ کے اوپر قصد کروں۔ ابوموسیٰ کہتے ہیں کہ معاویہ نے خط لکھا کہ میں اس کے بارے میں آپ سے پوچھ لوں۔ اگر وہ چار گواہ لائے تو درست وگرنہ اپنے ارادہ کو ترک کر دے۔ یحییٰ بن سعید کہتے ہیں : قتل کیا جائے گا۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : زنا کے تین گواہ حضرت عمر (رض) کے پاس موجود تھے چوتھا میسر نہ تھا تو انھوں نے صرف کوڑے لگائے۔