(۲۰۵۲۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا َبْنُ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنِ ابْنِ الْہَادِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ دِینَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا عَنْ رَسْولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : یَا مَعْشَرَ النِّسَائِ تَصَدَّقْنَ وَأَکْثِرْنَ الاِسْتِغْفَارَ فَإِنِّی رَأَیْتُکُنَّ أَکْثَرَ أَہْلِ النَّارِ ۔ قَالَتِ امْرَأَۃٌ مِنْہُنَّ : مَا لَنَا یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ قَالَ : تُکْثِرْنَ اللَّعْنَ وَتَکْفُرْنَ الْعَشِیرَ وَمَا رَأَیْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِینٍ أَغْلَبَ لِذِی اللُّبِّ مِنْکُنَّ۔ قَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ وَمَا نُقْصَانُ الْعَقْلِ وَالدِّینِ؟ قَالَ : أَمَّا نُقْصَانُ الْعَقْلِ فَشَہَادَۃُ امْرَأَتَیْنِ تَعْدِلُ شَہَادَۃَ رَجُلٍ وَاحِدٍ فَہَذَا نُقْصَانُ الْعَقْلِ وَتَمْکُثُ اللَّیَالِیَ لاَ تُصَلِّی وَتُفْطِرُ فِی رَمَضَانَ فَہَذَا نُقْصَانُ الدِّینِ ۔ [صحیح۔ مسلم ۸۰۷]
(٢٠٥٢٩) عبداللہ بن عمر (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : اے عورتوں کا گروہ ! تم صدقہ اور استغفار زیادہ کیا کرو۔ میں تمہیں اکثر جہنم والیاں دیکھتا ہوں۔ ان میں سے ایک عورت نے کہا : ہمیں کیا ہے اے اللہ کے رسول ؟ آپ نے فرمایا : تم لعنت اور خاوندوں کی ناشکری زیادہ کرتی ہو۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! عقل و لین کا نقصان کیا ہے ؟ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر ہوتی ہے، یہ عقل کا نقصان ہے۔ رات کا قیام چھوڑنا، فرضی روزے چھوڑنا۔ یہ دین کا نقصان ہے۔