(۲۰۵۷۲) وَیُرْوَی عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حَدَّثَنَاہُ أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ الرَّبِیعِ الْمَکِّیِّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ إِدْرِیسَ الأَوْدِیِّ قَالَ أَخْرَجَ إِلَیْنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی بُرْدَۃَ کِتَابًا فَقَالَ ہَذَا کِتَابُ عُمَرَ إِلَی أَبِی مُوسَی رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَذَکَرَہُ فَقَالَ فِیہِ : وَالْمُسْلِمُونَ عُدُولٌ بَعْضُہُمْ عَلَی بَعْضٍ إِلاَّ مَجْلُودًا فِی حَدٍّ أَوْ مُجَرَّبًا فِی شَہَادَۃِ زُورٍ أَوْ ظَنِینًا فِی وَلاَئٍ أَوْ قَرَابَۃٍ۔
وَہَذَا إِنَّمَا أَرَادَ بِہِ قَبْلَ أَنْ یَتُوبَ فَقَدْ رُوِّینَا عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ لأَبِی بَکْرَۃَ رَحِمَہُ اللَّہُ تُبْ تُقْبَلْ شَہَادَتُکَ۔ وَہَذَا ہُوَ الْمُرَادُ بِمَا عَسَی یَصِحُّ فِیہِ مِنَ الأَخْبَارِ کَمَا ہُوَ الْمُرَادُ بِسَائِرِ مَنْ رَدَّ شَہَادَتَہُ مَعَہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
[صحیح۔ تقدم برقم ۲۰۲۸۳]
(٢٠٥٧٢) ادریس اودی فرماتے ہیں کہ سعید بن ابی بردہ نے ہمارے سامنے ایک خط نکالا۔ کہنے لگے : یہ خط حضرت عمر (رض) کی طرف سے ابوموسیٰ اشعری (رض) کے نام ہے۔ اس میں ہے کہ تمام مسلمان ایک دوسرے پر گواہی دیں گے لیکن جس کو حد میں کوڑے لگائے گئے ہوں، جس پر جھوٹی گواہی کا تجربہ ہو یا اس کی نسبت یا قرابت میں تہمت ہو۔ ان سے مراد توبہ سے پہلے ہے۔ ابوبکرہ سے کہا گیا : توبہ کرلو، آپ کی گواہی قبول کی جائے گی۔