(۲۰۵۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ کُدَیْرًا الضَّبِّیَّ قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ سَمِعْتُہُ مِنْہُ مُنْذُ خَمْسِینَ سَنَۃً قَالَ شُعْبَۃُ وَسَمِعْتُہُ أَنَا مِنْ أَبِی إِسْحَاقَ مُنْذُ أَرْبَعِینَ سَنَۃً أَوْ أَکْثَرَ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَسَمِعْتُہُ أَنَا مِنْ شُعْبَۃَ مُنْذُ خَمْسٍ أَوْ سِتٍّ وَأَرْبَعِینَ سَنَۃً قَالَ : أَتَی رَجُلٌ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَخْبِرْنِی بِعَمَلٍ یُدْخِلُنِی الْجَنَّۃَ۔ قَالَ : قُلِ الْعَدْلَ وَأَعْطِ الْفَضْلَ ۔ قَالَ فَإِنْ لَمْ أُطِقْ ذَاکَ۔ قَالَ : فَأَطْعِمِ الطَّعَامَ وَأَفْشِ السَّلاَمَ ۔ قَالَ : فَإِنْ لَمْ أُطِقْ ذَاکَ أَوْ أَسْتَطِعْ ذَاکَ؟ قَالَ : فَہَلْ لَکَ مِنْ إِبِلٍ؟ ۔ قَالَ : نَعَمْ۔ قَالَ : فَانْظُرْ بَعِیرًا مِنْ إِبِلِکَ وَسِقَائً وَانْظُرْ أَہْلَ بَیْتٍ لاَ یَشْرَبُونَ الْمَائَ إِلاَّ غِبًّا فَاسْقِہِمْ فَإِنَّکَ لَعَلَّکَ أَنْ لاَ یَنْفَقَ بَعِیرُکَ وَلاَ یَنْخَرِقَ سِقَاؤُکَ حَتَّی تَجِبَ لَکَ الْجَنَّۃُ ۔ [ضعیف]
(٢٠٥٩٣) ابوداؤد فرماتے ہیں : میں نے شعبہ سے ٤٥، ٤٦ سال کی عمر میں سنا کہ ایک آدمی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہنے لگا : مجھے ایسا عمل بتایئے جو مجھے جنت میں داخل کر دے۔ فرمایا : عدل کرو اور زائد مال دے دیا کرو۔ اس نے کہا : اگر میں اس کی طاقت نہ رکھوں۔ فرمایا : کھانا کھلایا کر اور سلام کو عام کر۔ اس نے کہا : اگر میں اس کی طاقت یا استطاعت نہ رکھو۔ آپ نے فرمایا : کیا تیرے اونٹ ہیں ؟ اس نے کہا : ہاں۔ آپ نے فرمایا : اپنے اونٹوں کی دیکھ بھال کر اور اس کو پلایا کر۔ اور تیرے گھر والے ایک دن چھوڑ کر پانی پیتے ہیں ان کو پلایا کر۔ اگر تو اپنے اونٹ پر خرچ کرتا رہا پیاسا نہ چھوڑا تو جنت تیرے لیے واجب ہوجائے گی۔