(۲۰۵۹۷) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّیْبَانِیُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ الثَّقَفِیُّ قَالَ کَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : مَنْ کَانَتْ عِنْدَہُ شَہَادَۃٌ فَلَمْ یَشْہَدْ بِہَا حَیْثُ رَآہَا أَوْ حَیْثُ عَلِمَ فَإِنَّمَا یَشْہَدُ عَلَی ضِغْنٍ۔ ہَذَا مُنْقَطِعٌ فِیمَا بَیْنَ الثَّقَفِیِّ وَعُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ [ضعیف]
(٢٠٥٩٧) محمد بن عبیداللہ ثقفی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے خط لکھا : جس کے پاس گواہی ہو۔ جب اس نے دیکھا ہے گواہی نہیں دیتا یا وہ جانتے ہوئے بھی گواہی نہیں دیتاتو اس کو گواہی کے لیے لایا جائے۔