(۲۰۶۰۸) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَنْبَأَنَا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِیُّ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَنْبَأَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِی ہِنْدٍ قَالَ : سَأَلْتُ مُجَاہِدًا عَنِ الظِّہَارِ مِنَ الأَمَۃِ قَالَ لَیْسَ بِشَیْئٍ فَقُلْتُ أَلَیْسَ اللَّہُ سُبْحَانَہُ یَقُولُ {وَالَّذِینَ یُظَاہِرُونَ مِنْ نِسَائِہِمْ} [المجادلۃ ۳] أَفَلَیْسَتْ مِنَ النِّسَائِ فَقَالَ وَاللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ یَقُولُ {وَاسْتَشْہِدُوا شَہِیدَیْنِ مِنْ رِجَالِکُمْ} [البقرۃ ۲۸۲] أَفَتَجُوزُ شَہَادَۃُ الْعَبِیدِ؟ فَبَیَّنَ مُجَاہِدٌ رَحِمَہُ اللَّہُ أَنَّ مُطْلَقَ الْخِطَابِ یَتَنَاوَلُ الأَحْرَارَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
وَقَالَ أَبُو یَحْیَی السَّاجِیُّ رُوِیَ عَنْ عَلِیٍّ وَالْحَسَنِ وَالنَّخَعِیِّ وَالزُّہْرِیِّ وَمُجَاہِدٍ وَعَطَائٍ : لاَ تَجَوُزُ شَہَادَۃُ الْعَبِیدِ۔ وَقَالَ الْبُخَارِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی التَّرْجَمَۃِ قَالَ أَنَسٌ : شَہَادَۃُ الْعَبْدِ جَائِزَۃٌ إِذَا کَانَ عَدْلاً وَأَجَازَہَا شُرَیْحٌ وَزُرَارَۃُ بْنُ أَوْفَی۔ وَقَالَ ابْنُ سِیرِینَ : شَہَادَتُہُ جَائِزَۃٌ إِلاَّ الْعَبْدَ لِسَیِّدِہِ۔
وَأَجَازَہَا الْحَسَنُ وَإِبْرَاہِیمُ فِی الشَّیْئِ التَّافِہِ۔ وَقَالَ شُرَیْحٌ : کُلُّکُمْ بَنُو عَبِیدٍ وَإِمَائٍ ۔
(٢٠٦٠٨) داؤد بن ابی منذر فرماتے ہیں کہ میں نے لونڈی سے اظہار کے بارے میں مجاہد سے پوچھا تو فرمانے لگے : کچھ بھی نہیں۔ میں نے کہا : اللہ فرماتے ہیں : { وَالَّذِیْنَ یُظَاہِرُوْنَ مِنْ نِّسَآئِ ہِمْ } [المجادلۃ ٣] ” وہ لوگ جو اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں۔ “ کیا وہ عورتیں نہیں ؟ فرمانے لگے : اللہ نے فرمایا ہے : { وَاسْتَشْھِدُوْا شَھِیْدَیْنِ مِنْ رِّجَالِکُمْ } [البقرۃ ٢٨٢] ” تو کیا غلام کی شہادت جائز ہے ؟ تو مجاہد نے بیان کیا کہ مطلق طور پر خطاب آزاد لوگوں کو ہے۔
(ب) ابویحییٰ ساحبی فرماتے ہیں کہ علی، حسن، نخعی، زہری، مجاہد اور عطاء فرماتے ہیں کہ غلام کی شہادت قبول نہیں۔
(ج) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں : اگر عادل غلام ہو تو گواہی جائز ہے۔
قاضی شریح اور زوارہ بن اوفی نے بھی جائزقرار دیا ہے۔
(د) ابن سیرین بھی جائز خیال کرتے ہیں، لیکن مالک کے حق میں نہیں۔