(۲۰۶۱۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیُّ أَنْبَأَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : یَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِینَ کَیْفَ تَسْأَلُونَ أَہْلَ الْکِتَابِ عَنْ شَیْئٍ وَکِتَابُکُمُ الَّذِی أَنْزَلَ اللَّہُ عَلَی رَسُولِہِ أَحْدَثُ الأَخْبَارِ بِاللَّہِ تَقْرَئُ ونَہُ مَحْضًا لَمْ یُشَبْ وَقَدْ حَدَّثَکُمُ اللَّہُ أَنَّ أَہْلَ الْکِتَابِ قَدْ بَدَّلُوا مَا کَتَبَ اللَّہُ وَغَیَّرُوا وَکَتَبُوا بِأَیْدِیہِمُ الْکُتُبَ وَقَالُوا ہُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّہِ لِیَشْتَرُوا بِہِ ثَمَنًا قَلِیلاً أَفَلاَ یَنْہَاکُمْ مَا جَائَ کُمْ مِنَ الْعِلْمِ عَنْ مُسَائَ لَتِہِمْ فَلاَ وَاللَّہِ مَا رَأَیْنَا رَجُلاً مِنْہُمْ قَطْ یَسْأَلُکُمْ عَنِ الَّذِی أُنْزِلَ عَلَیْکُمْ۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۲۶۸۵]
(٢٠٦١٣) عبیداللہ بن عبداللہ حضرت ابن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ اے مسلمانو کا گروہ ! تم اہل کتاب سے کیونکر سوال کرتے ہو۔ حالانکہ اللہ کی نازل کردہ کتاب تمہارے پاس موجود ہے، جو خالص تم پڑھتے ہو اس کے اندر ملاوٹ نہیں، حالانکہ اللہ نے بیان کیا کہ اہل کتاب نے اللہ کی نازل کردہ کتاب میں رد وبدل کردیا اور بذات خود کتاب تحریر کرلی اور انھوں نے کہہ دیا : یہ اللہ کی طرف سے ہے، تاکہ تھوڑی قیمت وصول کریں۔ کیا تمہارے اہل علم حضرات نے ان سے سوال کرنے سے منع نہیں کیا ؟ اللہ کی قسم ! کبھی ہم نے نہیں دیکھا کہ وہ تم سے سوال کریں جو تمہارے اوپر نازل کیا گیا۔