hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 20627

.

سنن البيهقي

20627
Sunan Al Bayhaqi
(۲۰۶۲۱) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَنْبَأَنَا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِیُّ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ یُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ فِی قَوْلِہِ { اثْنَانِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْکُمْ أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَیْرِکُمْ } [المائدۃ ۱۰۶] قَالَ مِنَ الْمُسْلِمِینَ إِلاَّ أَنَّہُ یَقُولُ مِنْ الْقَبِیلَۃِ أَوْ غَیْرِ الْقَبِیلَۃِ۔ زَادَ فِیہِ غَیْرُہُ عَنِ الْحَسَنِ أَلاَ تَرَی أَنَّہُ یَقُولُ {تَحْبِسُونَہُمَا مِنْ بَعْدِ الصَّلاَۃِ} [المائدۃ ۱۰۶] وَرَوِّینَا عَنْ عِکْرِمَۃَ أَنَّہُ قَالَ { أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَیْرِکُمْ } [المائدۃ ۱۰۶] قَالَ مِنَ الْمُسْلِمِینَ مِنْ غَیْرِ حَیِّہِ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَقَدْ سَمِعْتُ مَنْ یَذْکُرُ أَنَّہَا مَنْسُوخَۃٌ بِقَوْلِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ { وَأَشْہِدُوا ذَوَی عَدَلٍ مِنْکُمْ} [الطلاق ۲] وَرَأَیْتُ مُفْتِی أَہْلِ دَارِالْہِجْرَۃِ وَالسُّنَّۃِ یُفْتُونَ أَنْ لاَ تَجُوزَ شَہَادَۃُ غَیْرِالْمُسْلِمِینَ الْعُدُولِ وَذَلِکَ قَوْلِی۔ وَحَکَی الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی مَوْضِعٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ وَأَبِی بَکْرِ بْنِ حَزْمٍ وَغَیْرِہِمَا أَنَّہُمْ أَبَوْا إِجَازَۃَ شَہَادَۃِ أَہْلِ الذِّمَّۃِ۔ قَالَ الشَّیْخُ ہَذَا مَعَ مَا رُوِیَ عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ فِی قَوْلِہِ { أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَیْرِکُمْ } [المائدۃ ۱۰۶] مِنْ أَہْلِ الْکِتَابِ دَلَّ عَلَی أَنَّہُ اعْتَقَدَ فِیہَا النَّسْخَ أَوْ حَمَلَ الآیَۃَ عَلَی غَیْرِ الشَّہَادَۃِ کَمَا نَذْکُرُہُ إِنْ شَائَ اللَّہُ تَعَالَی۔ [صحیح]
(٢٠٦٢١) یونس حضرت حسن سے نقل فرماتے ہیں کہ اللہ کا ارشاد ہے : { اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْکُمْ اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَیْرِکُمْ } [المائدۃ ١٠٦] ” دو عدل والے یا تمہارے علاوہ دوسرے دو گواہ ہوں۔ “ مسلمانوں قبیلہ کے یا غیر قبیلہ کے۔
کسی اور نے حسن سے زائد بھی بیان کیا ہے کہ { تَحْبِسُوْنَھُمَا مِنْ بَعْدِ الصَّلٰوۃِ } [المائدۃ ١٠٦] ” تم ان دونوں کو نماز کے بعد روک لیتے ہو۔ “
(ب) عکرمہ فرماتے ہیں کہ { اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَیْرِکُمْ } سے مراد مسلمان ہی ہیں جو تمہارے قبیلہ کے علاوہ سے ہوں۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ بعض سے میں نے سنا کہ یہ منسوخ ہے، اللہ کے اس فرمان کی وجہ سے : { وَّاَشْہِدُوْا ذَوَی عَدْلٍ مِّنْکُمْ } [الطلاق ٢] ” دو عدل والے تم میں سے گواہی دیں۔ “ میں نے مفتیوں کو دیکھا ہے وہ صرف عادل مسلمان کی گواہی کا اعتبار کرتے ہیں۔ “
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں سے منقول ہے : ابن مسیب، ابوبکر بن حزم وغیرہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے ذمی آدمی کی گواہی کا انکار کیا ہے۔
شیخ فرماتے ہیں : ابنمسیب سے اللہ کے قول : { اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَیْرِکُمْ } [المائدۃ ١٠٦] سے مراداہل کتاب ہیں یا یہ آیت منسوخ ہی یا اس آیت کو گواہی کے علاوہ کسی دوسری چیز پر محمول کیا جائے۔