(۲۰۶۲۸) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الأَصْبَہَانِیُّ الْفَقِیہُ أَنْبَأَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُبَشِّرٍ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ قَالَ سَمِعْتُ مُجَالِدًا یَذْکُرُ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : کَانَ شُرَیْحٌ یُجِیزُ شَہَادَۃَ کُلِّ مِلَّۃٍ عَلَی مِلَّتِہَا وَلاَ یُجِیزُ شَہَادَۃَ الْیَہُودِیِّ عَلَی النَّصْرَانِیِّ وَلاَ النَّصْرَانِیِّ عَلَی الْیَہُودِیِّ إِلاَّ الْمُسْلِمِینَ فَإِنَّہُ کَانَ یُجِیزُ شَہَادَتَہُمْ عَلَی الْمِلَلِ کُلِّہَا۔ [ضعیف]
(٢٠٦٢٨) شعبی فرماتے ہیں کہ قاضی شریح ہر دین والے کی شہادت دوسرے کے خلاف سنتے تھے، لیکن یہودی کی عیسائی کے خلاف اور عیسائی کی یہودی کے خلاف جائز خیال نہ کرتے تھے۔ لیکن مسلمان کی شہادت ہر ایک کے خلاف قبول کرتے تھے۔ کیونکہ ان کی شہادت سب کے خلاف جائز ہے۔