(۲۰۶۳۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْعَبْدَوِیُّ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَنْبَأَنَا مُغِیرَۃُ عَنْ إِبْرَاہِیمَ وَیُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ وَمُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ : أَنَّہُمْ کَانُوا یَقُولُونَ فِی شَہَادَۃِ الْغُلاَمِ إِذَا شَہِدَ قَبْلَ أَنْ یَبْلُغَ ثُمَّ قَامَ بِہَا إِذَا بَلَغَ وَالنَّصْرَانِیُّ وَالْیَہُودِیُّ إِذَا شَہِدَا فِی حَالِ شِرْکٍ ثُمَّ أَسْلَمَا وَالْعَبْدُ إِذَا شَہِدَ ثُمَّ أُعْتِقَ ثُمَّ قَامُوا بِشَہَادَتِہِمْ أَنَّ شَہَادَتَہُمْ جَائِزَۃٌ۔ [ضعیف]
(٢٠٦٣٣) محمد بن سالم شعبی سے نقل فرماتے ہیں کہ بچہ جب بلوغت سے پہلی گواہی دیکھے، پھر بالغ ہو جائیتو گواہی دے تو درست ہے اور یہودی یا عیسائی شرک کی حالت میں گواہی دیں پھر مسلمان ہوجائیں، اس طرح غلام جو بعد میں آزاد ہوجائے۔ پھر گواہی دے تو اس کی گواہی جائز ہے۔