hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 20714

.

سنن البيهقي

20714
Sunan Al Bayhaqi
(۲۰۷۰۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَنْبَأَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَنْبَأَنَا جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ حَدَّثَنَا عَدِیُّ بْنُ عَدِیٍّ عَنْ رَجَائِ بْنِ حَیْوَۃَ وَالْعُرْسِ بْنِ عَمِیرَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَدِیٍّ قَالَ : کَانَ بَیْنَ امْرِئِ الْقَیْسِ وَبَیْنَ رَجُلٍ مِنْ حَضْرَمَوْتَ خُصُومَۃٌ فَارْتَفَعُوا إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَال : بَیِّنَتُکَ وَإِلاَّ فَیَمِینُہُ ۔ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنْ حَلَفَ ذَہَبَ بِأَرْضِی قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مَنْ حَلَفَ عَلَی یَمِینٍ کَاذِبَۃٍ لِیَقْتَطِعَ بِہَا مَالَ أَخِیہِ لَقِیَ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ وَہُوَ عَلَیْہِ غَضْبَانُ فَقَالَ امْرُؤُ الْقَیْسِ : یَا رَسُولَ اللَّہِ فَمَا لِمَنْ تَرَکَہَا مُحِقًّا قَالَ : الْجَنَّۃُ ۔ قَالَ فَإِنِّی أَشْہَدُ أَنِّی قَدْ تَرَکْتُہَا۔ قَالَ جَرِیرٌ فَزَادَنِی أَیُّوبُ وَکُنَّا جَمِیعًا حِینَ سَمِعْنَا مِنْ عَدِیٍّ قَالَ قَالَ عَدِیٌّ فِی حَدِیثِ الْعُرْسِ بْنِ عَمِیرَۃَ فَنَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ {اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَھْدِ اللّٰہِ وَ اَیْمَانِھِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا} [آل عمران ۷۷] إِلَی آخِرِہَا وَلَمْ أَحْفَظْہَا مِنْ عَدِیٍّ۔ [صحیح]
(٢٠٧٠٨) رجاء بن حیرہ اور عرس بن عمیرہ اپنے والد عدی سے نقل فرماتے ہیں کہ امرء القیس اور حضرموت کے ایک آدمی کے درمیان جھگڑا تھا۔ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جھگڑا لے کر آئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دلیل لاؤ یا قسم اٹھاؤ۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! یہ میری زمین قسم اٹھا کرلے جائے گا۔ آپ نے فرمایا : جس نے جھوٹی قسم کے ذریعے اپنے بھائی کا مال لیا وہ اللہ سے ملاقات کرے گا اور اللہ اس سے ناراض ہوگا۔ امرء قیس کہتے ہیں : اے اللہ کے رسول ! جس نے حق پر ہوتے ہوئے بھی چھوڑ دیا ؟ فرمایا : جنت ملے گی۔ اس نے کہا : وہ بیشک میری ہے میں اس کو چھوڑتا ہوں۔
(ب) عدی کہتے ہیں کہ عرس بن عمیرہ کی حدیث میں ہے کہ آیت نازل ہوئی : { اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَھْدِ اللّٰہِ وَ اَیْمَانِھِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا } [آل عمران ٧٧] ” وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے عوض تھوڑی قیمت وصول کرتے ہیں۔ “