(۲۰۷۳۰) حَدَّثَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ الرَّبِیعِ الْمَکِّیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ إِدْرِیسَ الأَوْدِیِّ قَالَ : أَخْرَجَ إِلَیْنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی بُرْدَۃَ کِتَابًا وَقَالَ ہَذَا کِتَابُ عُمَرَ إِلَی أَبِی مُوسَی رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَذَکَرَہُ وَفِیہِ وَاجْعَلْ لِلْمُدَّعِی أَمَدًا یُنْتَہَی إِلَیْہِ فَإِنْ أَحْضَرَ بَیِّنَۃً وَإِلاَّ وَجَّہْتَ عَلَیْہِ الْقَضَائَ فَإِنَّ ذَلِکَ أَجْلَی لِلْعَمَی وَأَبْلَغُ فِی الْعُذْرِ۔ [صحیح۔ تقدم برقم: ۲۰۲۸۳]
(٢٠٧٣٠) ادریس اودی فرماتے ہیں کہ سعید بن ابی بردہ نے ایک خط نکالا اور کہنے لگے : یہ خط حضرت عمر (رض) کا ابو موسیٰ اشعری (رض) کی جانب ہے۔ اس میں تذکرہ تھا کہ آپ مدعی کو مہلت دیں۔ اگر وہ دلیل لے آئے تو ٹھیک وگرنہ فیصلہ اس کے خلاف کردیا جائے۔ یہ مدت اس کے عذر کو ختم کر دے گی۔