(۲۰۷۸۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ وَہَنَّادُ بْنُ السُّرَیِّ قَالاَ أَنْبَأَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : مَا رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- ضَرَبَ خَادِمًا قَطُّ وَلاَ ضَرَبَ بِیَدِہِ شَیْئًا قَطُّ إِلاَّ أَنْ یُجَاہِدَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَلاَ نِیلَ مِنْہُ شَیْء ٌ قَطُّ فَیَنْتَقِمَہُ مِنْ صَاحِبِہِ إِلاَّ أَنْ یَکُونَ لِلَّہِ فَإِذَا کَانَ لِلَّہِ انْتَقَمَ مِنْہُ وَلاَ عَرَضَ لَہُ أَمْرَانِ إِلاَّ أَخذَ الَّذِی ہُوَ أَیْسَرَ حَتَّی یَکُونَ إِثْمًا فَإِذَا کَانَ إِثْمًا کَانَ أَبَعْدَ النَّاسِ مِنْہُ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ عَنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ۔ [صحیح۔ مسلم ۲۳۲۸]
(٢٠٧٨٨) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے نہیں دیکھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کبھی خادم کو مارا ہو اور نہ کسی اور کو، صرف جہاد فی سبیل اللہ میں اور نہ ہی آپ نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام لیاسوائے اللہ کے لیے۔ جب اللہ کے لیے ہوتا تو انتقام لیتے۔ اگر دو معاملے ہوتے تو آسانی کو قبول فرماتے۔ اگر گناہ نہ ہوتا۔ جب گناہ ہوتا تو اس سے بہت دور ہوتے۔