(۲۰۷۹۶) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَیْحٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّہَا کَانَتْ عَلَی جَمَلٍ فَجَعَلَتْ تَضْرِبُہُ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : یَا عَائِشَۃُ عَلَیْکِ بِالرِّفْقِ فَإِنَّہُ لَمْ یَکُنْ فِی شَیْئٍ إِلاَّ زَانَہُ وَلَمْ یُنْزَعْ مِنْ شَیْئٍ إِلاَّ شَانَہُ ۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ وَجْہَیْنِ آخَرَیْنِ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(٢٠٧٩٦) مقدام بن شریح اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں جو حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) ایک اونٹ پر سوار تھیں اور اس کو مار رہی تھیں تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عائشہ ! نرمی کو لازم پکڑو۔ جس کے اندر نرمی ہو وہ چیز خوبصورت بن جاتی ہے اور جس چیز سے نرمی کو نکال دیا جائے وہ معیوب بن جاتی ہے۔