hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 20814

.

سنن البيهقي

20814
Sunan Al Bayhaqi
(۲۰۸۰۸) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی بِنَیْسَابُورَ وَأَبُو مَنْصُورٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الدَّامَغَانِیُّ بِبَیْہَقَ قَالاَ أَنْبَأَنَا أَبُو أَحْمَدَ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ إِسْمَاعِیلَ أَبُو عِمْرَانَ الْغَزِّیُّ بِغَزَّۃَ سَنَۃَ ثَلاَثِمِائَۃِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی السُّرَیِّ الْعَسْقَلاَنِیُّ حَدَّثَنَا بَکْرُ بْنُ بِشْرٍ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِیدِ بْنُ سَوَّارٍ عَنْ إِیَاسِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ بْنِ قُرَّۃَ الْمُزَنِیُّ قَالَ : کُنَّا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ فَذُکِرَ عِنْدَہُ الْحَیَائُ فَقَالُوا الْحَیَائُ مِنَ الدِّینِ۔ فَقَالَ عُمَرُ : بَلْ ہُوَ الدِّینُ کُلُّہُ۔ فَقَالَ إِیَاسٌ حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ جَدِّی قُرَّۃَ قَالَ کُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَذُکِرَ عِنْدَہُ الْحَیَائُ فَقَالُوا یَا رَسُولَ اللَّہِ الْحَیَائُ مِنَ الدِّینِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : بَلْ ہُوَ الدِّینُ کُلُّہُ ۔ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنَّ الْحَیَائَ وَالْعَفَافَ وَالْعَیَّ عَیَّ اللِّسَانِ لاَ عَیَّ الْقَلْبِ وَالْعَمَلَ مِنَ الإِیمَانِ وَإِنَّہُنَّ یَزِدْنَ فِی الآخِرَۃِ وَیَنْقُصْنَ مِنَ الدُّنْیَا وَمَا یَزِدْنَ فِی الآخِرَۃِ أَکْثَرَ مِمَّا یَزِدْنَ فِی الدُّنْیَا ۔ قَالَ إِیَاسُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ فَأَمَرَنِی عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ : فَأَمْلَیْتُہَا عَلَیْہِ ثُمَّ کَتَبَہَا بِخَطِّہِ ثُمَّ صَلَّی بِنَا الظُّہْرَ وَالْعَصْرَ وَإِنَّہُ لَفِی کُمِّہِ مَا وَضَعَہَا إِعْجَابًا بِہَا۔ [ضعیف]
(٢٠٨٠٨) ایاس بن معاویہ بن قرہ مزنی فرماتے ہیں کہ ہم عمر بن عبدالعزیز کے پاس تھے۔ ان کے پاس حیا کا تذکرہ کیا گیا۔ انھوں نے فرمایا : حیا دین سے ہے۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : یہ مکمل حیاء ہے، ایاس کہتی ہیں کہ میرے باپ نے مجھے میرے دادا قرۃ سے نقل کیا کہ ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھے۔ آپ کے سامنے حیاکا تذکرہ کیا گیا۔ انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حیا کا مطلب ہے پاک دامن رہنا اور زبان سے تھک جانا، دل سے نہیں اور عمل ایمان کا حصہ ہے اور یہ آخرت میں اضافے کا باعث ہیں اور دنیا میں کمی کا باعث ہیں یہ دنیا کے مقابلہ میں آخرت میں اضافے کا سبب زیادہ ہوتے ہیں ۔
ایاس بن معاویہ کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز نے مجھے حکم دیا کہ میں ایک خط پر لکھوں۔ پھر میں نے ان کو یہ لکھ کردیا، پھر انھوں نے اپنے خط سے لکھا۔ پھر ہمیں ظہر وعصر کی نماز پڑھائی۔ وہ آپ کی آستین میں تھا اور آپ کو بہت خوبصورت لگ رہا تھا۔