(۲۰۸۳۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ قَالاَ أَنْبَأَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ سُلَیْمَانَ النُّعْمَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ أَبِی خِدَاشٍ حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی حُمَیْدٍ عَنْ أَبِی الْمَلِیحِ الْہُذَلِیِّ قَالَ : کَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَی أَبِی مُوسَی الأَشْعَرِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ فِیہِ الْمُسْلِمُونَ عُدُولٌ بَعْضُہُمْ عَلَی بَعْضٍ إِلاَّ مَجْلُودٌ فِی حَدٍّ أَوْ مُجَرَّبٌ فِی شَہَادَۃِ زُورٍ أَوْ ظَنِینٌ فِی وَلاَئٍ أَوْ قَرَابَۃٍ۔ [صحیح۔ تقدم برقم ۲۰۲۸۳]
(٢٠٨٣٠) ابوملیح ہذلی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے ابوموسیٰ اشعری (رض) کو خط لکھا۔ اس نے حدیث کو ذکر کیا، اس میں ہے کہ مسلمان ایک دوسرے کا فیصلہ کرسکتے ہیں، سوائے اس جس کو حد کی وجہ سے سزا ملی ہو اور اس پر جھوٹی گواہی کا تجربہ ہو اور نیت اور قرابت داری کے اندر تہمت ہو۔