(۲۰۸۴۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ أَنْبَأَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ قَالَ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ : الْمَعَارِیضُ أَنْ یُرِیدَ الرَّجُلُ أَنْ یَتَکَلَّمَ بِالْکَلاَمِ الَّذِی إِنْ صَرَّحَ بِہِ کَانَ کَذِبًا فَیُعَارِضُہُ بِکَلاَمٍ آخَرَ یُوَافِقُ ذَلِکَ الْکَلاَمَ فِی اللَّفْظِ وَیُخَالِفُہُ فِی الْمَعْنَی فَیَتَوَہَّمُ السَّامِعُ أَنَّہُ أَرَادَ ذَلِکَ وَقَوْلُہُ مَنْدُوحَۃٌ یَعْنِی سَعَۃً وَفُسْحَۃً۔
قَالَ الشَّیْخُ وَہَذَا إِنَّمَا یَجُوزُ فِیمَا یَرُدُّ بِہِ ضَرَرًا وَلاَ یَرْجِعُ بِالضَّرَرِ عَلَی غَیْرِہِ وَأَمَّا فِیمَا یَضُرُّ غَیْرَہُ فَلاَ۔
[صحیح]
(٢٠٨٤٥) ابوعبیدہ فرماتے ہیں کہ توریہ یہ ہے کہ آدمی کوئی کلام کرنا چاہتا ہے اگر وہ واضح بات کرتا ہے تو یہ جھوٹ ہے تو وہ ایسی کلام سے توریہ کرنا ہے کہ وہ کلام لفظوں کے اعتبار سے ایک جیسی ہے لیکن معنیٰ مختلف ہوتا ہے، سننے والے کو وہم ہوتا ہے کہ وہی کلام کررہا ہے، مندوحۃ یعنی کھول کر بیان کرتا ہے۔
شیخ فرماتے ہیں : تکلیف دور کرنا مقصود ہو تو جائز ہے۔ دوسروں کو تکلیف میں مبتلا کرنا جائز نہیں۔