(۲۰۸۶۳) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مَیْسَرَۃَ عَنِ ابْنِ أَبِی سُوَیْدٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ قَالَ زَعَمَتِ الْمَرْأَۃُ الصَّالِحَۃُ خَوْلَۃُ بِنْتُ حَکِیمٍ امْرَأَۃُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- خَرَجَ وَہُوَ مُحْتَضِنٌ أَحَدَ ابْنَیِ ابْنَتِہِ وَہُوَ یَقُولُ : وَاللَّہِ إِنَّکُمْ لَتُجَہِّلُونَ وَتُجَبِّنُونَ وَتُبَخِّلُونَ وَإِنَّکُمْ لَمِنْ رَیْحَانِ اللَّہِ ۔وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ بُطْحَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُہَیْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَیْمٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی رَاشِدٍ عَنْ یَعْلَی بْنِ مُنَیَّۃَ الثَّقَفِیِّ قَالَ : جَائَ الْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ یَسْتَبِقَانِ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَضَمَّہُمَا إِلَیْہِ ثُمَّ قَالَ : إِنَّ الْوَلَدَ مَبْخَلَۃٌ مَجْبَنَۃٌ مَحْزَنَۃٌ۔ [ضعیف]
(٢٠٨٦٣) عثمان بن مظعون کی بیوی خولہ بنت حکیم فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے نواسوں کو سینے لگاتے ہوئے نکلے اور فرما رہے تھے کہ تم جہالت میں رہتے ہو، تم دور رہتے ہو، تم بخل کرتے ہو۔ بیشک یہ تو اللہ کے پھول ہیں۔
(ب) یعلی بن منیہ ثقفی فرماتے ہیں کہ حسن و حسین دونوں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف دوڑتے ہوئے آئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو سینے سے لگا لیا۔ پھر فرمایا : بچے بخیلی، بزدلی اور غم گینی کا باعث ہیں۔