(۲۰۸۷۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا أَبُو الْقَاسِمِ سُلَیْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عُمَرَ مَوْلَی غُفْرَۃَ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ عَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنَّ لِکُلِّ أُمَّۃٍ مَجُوسًا وَإِنَّ مَجُوسَ ہَذِہِ الأَُمَّۃِ الَّذِینَ یَقُولُونَ لاَ قَدَرَ فَمَنْ مَرِضَ مِنْہُمْ فَلاَ تَعُودُوہُ وَمَنْ مَاتَ مِنْہُمْ فَلاَ تَشْہَدُوہُ وَہُمْ شِیعَۃُ الدَّجَّالِ وَحَقٌّ عَلَی اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ یُلْحِقَہُمْ بِہِ ۔
أَخْرَجَہُ أَبُو دَاوُدَ فِی کِتَابِ السُّنَنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَثِیرٍ عَنْ سُفْیَانَ۔وَالَّذِی رُوِیَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَحُذَیْفَۃَ فِی تَکْفِیرِ الْقَدَرِیَّۃِ نَصًّا مَوْجُودٌ دَلاَلَۃً ظَاہِرَۃً فِی الْحَدِیثِ الثَّابِتِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِیہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی الإِیمَانِ مَعَ تَبَرِّی ابْنِ عُمَرَ مِمَّنْ نَفَی الْقَدَرَ۔ [ضعیف]
(٢٠٨٧٠) حضرت حذیفہ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر امت کے مجوس ہوتے ہیں اور اس امت کے مجوسی قدریہ (یعنی تقدیر کے منکر) ہیں، نہ ان کی تیمارداری کرو اور نہ ہی ان کے جنازے میں شامل ہو۔ یہ دجال کا گروہ ہے اللہ کے ذمہ ہے کہ ان کو ان کے ساتھ ملا دے۔
(ب) ابن عمر (رض) اپنے والد سے اور وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایمان کے متعلقنقل فرماتے ہیں : جو تقدیر کا منکر ہے وہ ایمان سے خالی ہے۔