hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 20880

.

سنن البيهقي

20880
Sunan Al Bayhaqi
(۲۰۸۷۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَنْبَأَنَا أَبُو عَلِیٍّ إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَنْبَأَنَا أَبُو سِنَانٍ سَعِیدُ بْنُ سِنَانٍ الشَّیْبَانِیُّ قَالَ سَمِعْتُ وَہْبَ بْنَ خَالِدٍ الْحِمْصِیَّ یُحَدِّثُنَا عَنِ ابْنِ الدَّیْلَمِیِّ قَالَ : وَقَعَ فِی نَفْسِی شَیْء ٌ مِنَ الْقَدَرِ فَأَتَیْتُ أُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ فَقُلْتُ یَا أَبَا الْمُنْذِرِ وَقَعَ فِی نَفْسِی شَیْء ٌ مِنَ الْقَدَرِ خِفْتُ أَنْ یَکُونَ فِیہِ ہَلاَکُ دِینِی وَأَمْرِی فَقَالَ یَا ابْنَ أَخِی إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ لَوْ عَذَّبَ أَہْلَ سَمَوَاتِہِ وَأَہْلَ أَرْضِہِ لَعَذَّبَہُمْ وَہُوَ غَیْرُ ظَالِمٍ لَہُمْ وَلَوْ رَحِمَہُمْ لَکَانَتْ رَحْمَتُہُ لَہُمْ خَیْرًا مِنَ أَعْمَالِہِمْ وَلَوْ أَنَّ لَکَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَہَبًا أَنْفَقْتَہُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ مَا قَبِلَہُ اللَّہُ مِنْکَ حَتَّی تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ وَتَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَکَ لَمْ یَکُنْ لِیُخْطِئَکَ وَأَنَّ مَا أَخْطَأَکَ لَمْ یَکُنْ لِیُصِیبَکَ وَأَنَّکَ إِذَا مُتَّ عَلَی غَیْرِ ہَذَا دَخَلْتَ النَّارَ وَلاَ عَلَیْکَ أَنْ تَأْتِیَ أَخِی عَبْدَ اللَّہِ بْنَ مَسْعُودٍ فَتَسْأَلَہُ۔ فَأَتَیْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ مَسْعُودٍ فَسَأَلْتُہُ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِکَ قَالَ إِسْحَاقُ قَصَّ الْقِصَّۃَ کُلَّہَا کَمَا قَالَ غَیْرَ أَنِّی اخْتَصَرْتُہُ وَقَالَ لِی لاَ عَلَیْکَ أَنْ تَأْتِیَ حُذَیْفَۃَ بْنَ الْیَمَانِ فَتَسْأَلَہُ۔ فَأَتَیْتُ حُذَیْفَۃَ بْنَ الْیَمَانِ فَسَأَلْتُہُ وَقَالَ لِی مِثْلَ ذَلِکَ وَقَالَ ائْتِ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَسَلْہُ۔ فَأَتَیْتُ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَسَأَلْتُہُ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ لَوْ عَذَّبَ أَہْلَ سَمَوَاتِہِ وَأَہْلَ أَرْضِہِ لَعَذَّبَہُمْ وَہُوَ غَیْرُ ظَالِمٍ لَہُمْ وَلَوْ رَحِمَہُمْ کَانَتْ رَحْمَتُہُ خَیْرًا لَہُمْ مِنْ أَعْمَالِہِمْ وَلَوْ أَنَّ لَکَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَہَبًا أَنْفَقْتَہُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ مَا قَبِلَہُ اللَّہُ مِنْکَ حَتَّی تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ وَتَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَکَ لَمْ یَکُنْ لِیُخْطِئَکَ وَأَنَّ مَا أَخْطَأَکَ لَمْ یَکُنْ لِیُصِیبَکَ وَأَنَّہُ إِنْ مَاتَ عَلَی غَیْرِ ہَذَا دَخَلَ النَّارَ ۔ أَخْرَجَہُ أَبُو دَاوُدَ فِی کِتَابِ السُّنَنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَثِیرٍ عَنْ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ عَنْ أبِی سِنَانٍ۔ وَرُوِّینَا فِی ذَلِکَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ وَعُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ وَسَلْمَانَ الْفَارِسِیِّ وَغَیْرِہِمْ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ۔ [صحیح]
(٢٠٨٧٤) ابن دیلمی فرماتے ہیں کہ تقدیر کے بارے میں میرے دل میں شک سا پیدا ہوا تو میں ابی بن کعب کے پاس آگیا اور میں نے کہا : اے ابومنذر ! میرے دل میں تقدیر کے بارے میں کچھ واقع ہوا ، میں خطرہ محسوس کرتا ہوں کہ میرا دین برباد نہ ہوجائے، اس نے کہا : اے بھتیجے ! اگر اللہ آسمانوں اور زمین والوں کو عذاب دینا چاہے تو وہ اس میں ظالم نہیں ہے۔ اگر وہ رحمت کرے تو اس کی رحمت سب سے زیادہ وسیع ہے، اگر آپ کے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اس کو خرچ کردیں تو اللہ قبول نہ فرمائیں گے اگر تیرا تقدیر پر ایمان نہ ہوا اور آپ جان لیں جو آپ کو پہنچے والا ہے پہنچ کر رہے گا اور جو نہیں ملنا وہ آپ کو نہ ملس کے گا۔ اگر آپ تقدیر کے عقیدہ کے بغیر مرگئے تو جہنم میں جاؤ گے اور جب میرے بھائی عبداللہ بن مسعود آئیں تو ان سے سوال کرلینا۔ پھر میں عبداللہ مسعود کے پاس آیا، ان سے سوال کیا تو انھوں نے بھی ویسا ہی جواب دیا۔
اسحاق فرماتے ہیں انھوں نے فرمایا : حذیفہ بن یمان کے پاس جاکر سوال کرنا۔ میں حذیفہ بن یمان کے پاس آیا، اس نے بھی مجھے ایسا ہی جواب دیا اور وہ مجھ سے کہنے لگے : زید بن ثابت کے پاس جانا، میں زید بن ثابت کے پاس آیا میں نے ان سے سوال کیا، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ اگر اللہ آسمانوں اور زمین والوں کو عذاب دینا چاہے تو وہ اس میں ظالم نہ ہوگا، اگر وہ رحمت کرنا چاہے تو اس کی رحمت تمام اعمال سے بہتر ہے۔ اگر تیرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو آپ خرچ کریں تو اللہ قبول نہ فرمائیں گے جب تک آپ کا تقدیر پر ایمان نہ ہو۔ آپ جان لیں جو آپ کو پہنچنے والا ہے وہ پہنچ کر ہی رہے گا اور جس نے آپ سے خطا کی وہ آپ کو نہ پہنچ سکے گا۔ اگر اس عقیدہ پر فوت نہ ہوا تو جہنم میں جائے گا۔