(۲۰۹۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْجَارُودِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبُوشَنْجِیُّ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سَوَّارٍ الْعَنْبَرِیُّ قَالَ : شَہِدَ رَجُلٌ عِنْدَ أَبِی شَہَادَۃً فَرَدَّ شَہَادَتَہُ فَأَتَاہُ بَعْدُ فَقَالَ رَدَدْتَ شَہَادَتِی قَالَ نَعَمْ قَالَ وَلِمَ قَالَ لأَنَّہُ بَلَغَنِی أَنَّکَ تَنَاوَلُ أَوْ تُبْغِضُ أَصْحَابَ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ قَالَ : مَا أَتَنَاوَلُ إِلاَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ قَالَ : نَعَمْ أَمَا إِنِّی أَزِیدُکَ حَبْسًا حَتَّی تُحْدِثَ تَوْبَۃً۔ [ضعیف]
(٢٠٩٠٩) عبداللہ بن سوارعنبری فرماتے ہیں کہ ایک آدمی میرے والد کے پاس آیا۔ انھوں نے اس کی شہادت رد کردی۔ پھر دوبارہ آکر کہنے لگا : آپ نے میری شہادت رد کردی ؟ فرمایا : ہاں۔ کہنے لگا : کیوں ؟ کہنے لگے : مجھے پتہ چلا ہے تو صحابہ سے عداوت رکھتا ہے، وہ کہنے لگا : صرف عمرو بن عاص سے ہے، فرمایا : میں تجھے قید میں بھی رکھوں گا، جب تک تو توبہ نہ کرلے۔