hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 20922

.

سنن البيهقي

20922
Sunan Al Bayhaqi
(۲۰۹۱۶) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی أَنْبَأَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْکَرِیمِ بْنُ الْہَیْثَمِ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ (ح) قَالَ وَحَدَّثَنَا حَجَّاجٌ یَعْنِی ابْنَ أَبِی مَنِیعٍ حَدَّثَنَا جَدِّی عَنِ الزُّہْرِیِّ حَدَّثَنِی أَبُو إِدْرِیسَ عَائِذُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْخَوْلاَنِیُّ أَنَّہُ أَخْبَرَہُ یَزِیدُ بْنُ عَمِیرَۃَ صَاحِبُ مُعَاذٍ : أَنَّ مُعَاذًا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ یَقُولُ کُلَّمَا جَلَسَ مَجْلِسَ ذِکْرٍ اللَّہُ حَکَمٌ عَدَلٌ وَقَالَ أَبُو الْیَمَانِ قَسْطٌ تَبَارَکَ اسْمُہُ ہَلَکَ الْمُرْتَابُونَ فَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ یَوْمًا فِی مَجْلِسٍ جَلَسَہُ وَرَائَ کُمْ فِتَنٌ یَکْثُرُ فِیہَا الْمَالُ وَیُفْتَحُ فِیہَا الْقُرْآنُ حَتَّی یَأْخُذَہُ الْمُؤْمِنُ وَالْمُنَافِقُ وَالْحُرُّ وَالْعَبْدُ وَالرَّجُلُ وَالْمَرْأَۃُ وَالْکَبِیرُ وَالصَّغِیرُ فَیُوشِکُ قَائِلٌ أَنْ یَقُولَ فَمَا لِلنَّاسِ لاَ یَتَّبِعُونِی وَقَدْ قَرَأْتُ الْقُرْآنَ وَاللَّہِ مَا ہُمْ بِمُتَّبِعِیَّ حَتَّی أَبْتَدِعَ لَہُمْ غَیْرَہُ فَإِیَّاکُمْ وَمَا ابْتُدِعَ فَإِنَّ مَا ابْتُدِعَ ضَلاَلَۃٌ وَاحْذَرُوا زَیْغَۃَ الْحَکِیمِ فَإِنَّ الشَّیْطَانَ قَدْ یَقُولُ کَلِمَۃَ الضَّلاَلِ عَلَی فَمِ الْحَکِیمِ وَقَدْ یَقُولُ الْمُنَافِقُ کَلِمَۃَ الْحَقِّ قَالَ قُلْتُ لَہُ وَمَا یُدْرِینِی یَرْحَمُکَ اللَّہُ أَنَّ الْحَکِیمَ یَقُولُ کَلِمَۃَ الضَّلاَلَۃِ وَأَنَّ الْمُنَافِقَ یَقُولُ کَلِمَۃَ الْحَقِّ قَالَ اجْتَنِبْ مِنْ کَلاَمِ الْحَکِیمِ الْمُشْتَبِہَاتِ الَّتِی تَقُولُ مَا ہَذِہِ وَلاَ یُنْئِیَنَّکَ ذَلِکَ مِنْہُ فَإِنَّہُ لَعَلَّہُ أَنْ یُرَاجِعَ وَیَلْقَی الْحَقَّ إِذَا سَمِعَہُ فَإِنَّ عَلَی الْحَقِّ نُورًا وَفِی رِوَایَۃِ الْقَاضِی وَلاَ یُثْنِیَنَّکَ ذَلِکَ عَنْہُ۔ وَرَوَاہُ عُقَیْلٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ فَقَالَ فِی الْحَدِیثِ وَلاَ یُثْنِیَنَّکَ ذَلِکَ عَنْہُ۔ فَأَخْبَرَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ أَنَّ زَیْغَۃَ الْحَکِیمِ لاَ تُوجِبُ الإِعْرَاضَ عَنْہُ وَلَکِنْ یُتْرَکُ مِنْ قَوْلِہِ مَا لَیْسَ عَلَیْہِ نُورٌ فَإِنَّ عَلَی الْحَقِّ نُورًا یَعْنِی وَاللَّہُ أَعْلَمُ دَلاَلَۃٌ مِنْ کِتَابٍ أَوْ سُنَّۃٍ أَوْ إِجْمَاعٍ أَوْ قِیْاسٍ عَلَی بَعْضِ ہَذَا۔ [صحیح]
(٢٠٩١٦) یزید بن عمیرہ جو حضرت معاذ کے شاگرد ہیں ، فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ جب بھی ذکر کی مجلس میں بیٹھتیتو فرماتے : اللہ عادل حاکم ہے اور ابویمان کہتے ہیں : قسط یہ اللہ کا نام ہے، شک کرنے والے ہلاک ہوگئے۔ حضرت معاذ بن جبل مجلس میں ایک دن فرمانے لگے : جو تمہارے بعد ہیں ان میں مال کا فتنہ ہوگا اور قرآن کو پڑھا جائے گا۔ اس کو مومن اور منافق لے لیں گے، آزاد، غلام، مرد، عورت، بڑا، چھوٹا، سب اپنا حصہ وصول کریں گے۔ کہنے والا کہے گا : میں قرآن پڑھتا ہوں لوگ میری پیروی نہیں کرتے۔ اللہ کی قسم ! وہ میری پیروی نہ کریں گے جب تک میں ان کے لیے کوئی دوسری بات نہ کروں۔ نئی بات سے بچو کیونکہ یہ گمراہی ہوتی ہے اور حکیم آدمی کی گمراہی سے بچو؛ کیونکہ کبھی کبھی شیطان بھی حکیم آدمی کے منہ سے گمراہی والی بات کہلوا دیتا ہے اور کبھی منافق بھی سچی بات کہہ دیتا ہے۔ راوی کہتے ہیں : میں نے ان سے کہا : اللہ آپ پر رحم فرمائے۔ کیا حکیم گمراہی والی بات اور منافق سچی بات کہہ دیتا ہے ؟ کہتے ہیں : جب حکیم آدمی مشتبہ کلام کرے تو اس کو چھوڑ دوجب تک وہ وضاحت نہ کرے۔ ممکن ہے وہ اپنی بات سے رجوع کرے اور حق بات کہہ دے اور حق تو نور ہوتا ہے اور قاضی کی روایت میں ہے کہ وہ آپ کی تعریف نہ کرے۔ معاذ بن جبل (رض) نے بتایا : حکیم آدمی سے اس کی کسی غلط بات کی وجہ سے اعراض کرنا واجب نہیں ہے، لیکن اس کا نور سے خالی قول چھوڑ دیا جائے۔ یعنی یہ دلالت کتاب ، سنت ، اجماع یا قیاس سے ہوتی ہے۔