(۲۰۹۲۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْوَلِیدِ یَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ بْنَ سُرَیْجٍ یَقُولُ سَمِعْتُ إِسْمَاعِیلَ بْنَ إِسْحَاقَ الْقَاضِی یَقُولُ : دَخَلْتُ عَلَی الْمُعْتَضِدِ فَدَفَعَ إِلَیَّ کِتَابًا نَظَرْتُ فِیہِ وَکَانَ قَدْ جُمِعَ لَہُ الرُّخَصُ مِنْ زَلَلِ الْعُلَمَائِ وَمَا احْتَجَّ بِہِ کُلٌّ مِنْہُمْ لِنَفْسِہِ فَقُلْتُ لَہُ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ مُصَنِّفُ ہَذَا الْکِتَابِ زِنْدِیقٌ فَقَالَ لَمْ تَصِحَّ ہَذِہِ الأَحَادِیثُ قُلْتُ الأَحَادِیثُ عَلَی مَا رُوِیَتْ وَلَکِنْ مَنْ أَبَاحَ الْمُسْکِرَ لَمْ یُبِحِ الْمُتْعَۃَ وَمَنْ أَبَاحَ الْمُتْعَۃَ لَمْ یُبِحِ الْغِنَائَ وَالْمُسْکِرَ وَمَا مِنْ عَالِمٍ إِلاَّ وَلَہُ زَلَّۃٌ وَمَنْ جَمَعَ زَلَلَ الْعُلَمَائِ ثُمَّ أَخَذَ بِہَا ذَہَبَ دِینُہُ فَأَمَرَ الْمُعْتَضِدُ فَأُحْرِقَ ذَلِکَ الْکِتَابُ۔ [صحیح]
(٢٠٩٢١) اسماعیل بن اسحاق قاضی کہتے ہیں : میں معتضد کے پاس آیا۔ اس نے مجھے ایک کتاب دی۔ میں نے اس کو دیکھا اس میں علماء کی لغزشیں اور جو ان کی ضروریات ہوتی ہیں ان کو جمع کیا گیا تھا۔ میں نے کہا : امیرالمومنین اس کتاب کا مصنف زندیق ہے، وہ کہنے لگے : یہ احادیث صحیح نہیں ہے، میں نے کہا : احادیث جو روایت کی گئی ہیں لیکن جس نے نشہ آور چیز کو مباح کہا ہے۔ وہ متعہ کو جائز نہیں خیال کرتے اور جو متعہ کو جائز خیال کرتا ہے وہ گانے اور نشہ آور چیز کو جائز خیال نہیں کرتا۔ ہر عالم سے لغزش ہوجاتی ہے۔ جس نے علماء کی لغزش کو جمع کیا، پھر اس پر عمل کیا، اس کا دین گیا تو معتضد نے اس کتاب کو جلانے کا حکم دیا۔