(۲۰۹۲۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَنْبَأَنَا أَبُو مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا مَعْقِلُ بْنُ مَالِکٍ الْبَاہِلِیُّ قَالَ : خَرَجْتُ مِنَ الْمَسْجِدِ الْجَامِعِ فَإِذَا رَجُلٌ قَدْ قُرِّبَتْ إِلَیْہِ دَابَّۃٌ فَسَأَلَہُ رَجُلٌ مَا کَانَ الْحَسَنُ یَقُولُ فِی الشَّطْرَنْجِ فَقَالَ کَانَ لاَ یَرَی بِہَا بَأْسًا وَکَانَ یَکْرَہُ النَّرْدَشِیرَ فَقُلْتُ مَنْ ہَذَا فَقَالُوا ابْنُ عَوْنٍ وَکَانَ مُضَبَّبَ الأَسْنَانِ بِالذَّہَبِ۔ [حسن]
(٢٠٩٢٥) معقل بن مالک باہلی فرماتے ہیں : میں جامع مسجد سے نکلا، اچانک ایک آدمی کے سامنے سواری لائی گئی۔ اس سے کسی آدمی نے سوال کیا : کیا حسن شطرنج کھیلا کرتے تھے ؟ وہ کہنے لگا : وہ اس میں حرج محسوس نہ کرتے تھے، لیکن نرد سیر کو ناپسند کرتے۔ میں نے کہا : یہ کون ہے ؟ انھوں نے کہا : ابن عون۔ وہ سونے کے دانت لگاتے تھے۔