(۲۰۹۳۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ طَرِیفٍ عَنِ الأَصْبَغِ بْنِ نُبَاتَۃَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّہُ مَرَّ عَلَی قَوْمٍ یَلْعَبُونَ الشَّطْرَنْجَ فَقَالَ {مَا ھٰذِہِ التَّمَاثِیْلُ الَّتِیْٓ اَنْتُمْ لَھَا عٰکِفُوْنَ } [الانبیاء ۵۲] لأَنْ یَمَسَّ جَمْرًا حَتَّی یَطْفَأَ خَیْرٌ لَہُ مِنْ أَنْ یَمَسَّہَا۔
[ضعیف]
(٢٠٩٣٠) اصبغ بن نباتہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) کا ایک قوم کے پاس سے گزر ہوا، وہ شطرنج کھیل رہے تھے۔ فرمانے لگے : { مَا ھٰذِہِ التَّمَاثِیْلُ الَّتِیْٓ اَنْتُمْ لَھَا عٰکِفُوْنَ } [الانبیاء ٥٢] یہ کیسی صورتیں ہیں جن کے اوپر تم ٹھہرے ہوتے ہو۔
وہ کوئلے کو پکڑ لیں اور ان کے ہاتھ میں بجھ جائے ، یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ شطرنج کو ہاتھ لگائے۔