(۲۰۹۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْحَسَنِ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ قَالَ سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ سَعِیدٍ الدَّارِمِیَّ یَقُولُ سَمِعْتُ عَلِیَّ بْنَ الْمَدِینِیِّ یَقُولُ فِی حَدِیثِ سُفْیَانَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- : ((مَنْ فَاتَہُ الْعَصْرُ فَکَأَنَّمَا وُتِرَ أَہْلَہُ وَمَالَہُ))۔
قَالَ عَلِیٌّ قُلْتُ لِسُفْیَانَ: فَإِنَّ ابْنَ أَبِی ذِئْبٍ یُسْنِدُہُ عَنْ نَوْفَلِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ سَمِعَ النَّبِیَّ -ﷺ-۔ فَقَالَ: سَمِعْتُہُ مِنْہُ وَوَعَاہُ قَلْبِی وَحَفِظْتُہُ کَمَا أَنَّکَ ہَا ہُنَا عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِیہِ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ عَنْ سُفْیَانَ وَأَخْرَجَہُ مِنْ حَدِیثِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ الزُّہْرِیِّ کَذَلِکَ۔ (ت) وَکَذَلِکَ رَوَاہُ مَعْمَرٌ وَإِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۵۲۷]
(٢٠٩٤) عثمان بن سعید دارمی فرماتے ہیں کہ میں نے علی بن مدینی کو اس حدیث کے بارے میں فرماتے ہوئے سنا جو سفیان زہری سے ، وہ سالم سے اور سالم اپنے والد سے اور وہ رسول اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ جس کی عصر کی نماز فوت ہوجائے وہ ایسا ہے گویا اس کے گھر والے اور مال ومتاع کو لوٹ لیا گیا ہو۔
(ب) علی کہتے ہیں : میں نے سفیان سے کہا کہ ابن ابی ذئب اس حدیث کی سند نوفل بن معاویہ سے بیان کرتا ہے کہ اس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا۔ پھر کہتے ہیں کہ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، میرے دل نے اسے سمجھا اور میں نے یاد کیا، جس طرح آپ یہاں سالم عن ابیہ والی روایت بیان کرتے ہیں۔