(۲۱۰۱۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَنْبَأَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ صَفْوَانَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی الدُّنْیَا حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ وَأَبُو خَیْثَمَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سُلَیْمٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : سَأَلَ إِنْسَانٌ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ عَنِ الْغِنَائِ فَقَالَ أَنْہَاکَ عَنْہُ وَأَکْرَہُہُ قَالَ أَحَرَامٌ ہُوَ؟ قَالَ : انْظُرْ یَا ابْنَ أَخِی إِذَا مَیَّزَ اللَّہُ الْحَقَّ مِنَ الْبَاطِلِ فِی أَیِّہِمَا یَجْعَلُ الْغِنَائَ ۔ [ضعیف]
(٢١٠١١) عبیداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نیقاسم بن محمد سے گانے کے متعلق سوال کیا گیا تو فرمایا : میں اس سے منع بھی کرتا ہوں اور ناپسند بھی کرتا ہوں۔ اس نے کہا : کیا یہ حرام ہے ؟ کہنے لگے : اے بھتیجے ! جب اللہ حق و باطل میں تمیز کرے گا تو گانے کو کس پلڑے میں رکھے گا۔