(۲۱۰۲۴) وَرَوَاہُ أَبُو عُبَیْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ سَلاَّمٍ عَنْ غَیْرِ وَاحِدٍ عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَیْسٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ ہَکَذَا مُرْسَلاً دُونَ قَوْلِہِ وَالْمِذَائُ الدَّیُّوثُ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ الْمِذَائُ أُخِذَ مِنَ الْمَذْیِ یَعْنِی أَنْ یَجْمَعَ بَیْنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَائِ ثُمَّ یُخَلِّیہِمْ یُمَاذِی بَعْضُہُمْ بَعْضًا مِذَائً ۔
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنْ أَبِی عُبَیْدٍ قَالَ حَدَّثَنَاہُ غَیْرُ وَاحِدٍ عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَیْسٍ فَذَکَرَہُ
قَالَ الشَّیْخُ وَرَوَاہُ غَیْرُہُمَا عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مَوْصُولاً۔ [صحیح]
(٢١٠٢٤) زید بن اسلم اس طرح ہی بیان کرتے ہیں۔ مگر اس قول کے بغیر المذاء یعنی دیوث، بےغیرت۔ ابو عبیدہ بیان کرتے ہیں کہ المذاء لیا گیا ہے۔ مذی سے مراد مردوں اور عورتوں کو جمع کر کی پھر ان میں اختلاطکرا دینا، وہ ایک دوسرے سے بےغیرتی کرتے ہیں۔