(۲۱۰۳۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عُمَرَ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَیُّوبَ أَبُو الْقَاسِمِ اللَّخْمِیُّ بِأَصْبَہَانَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی سُوَیْدٍ الشِّبَامِیُّ سَنَۃَ ثَمَانِ وَسَبْعِینَ وَمِائَتَیْنِ بِمَدِینَۃِ شِبَامَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ : لَمَّا دَخَلَ النَّبِیُّ -ﷺ- مَکَّۃَ فِی عُمْرَۃِ الْقَضَائِ مَشَی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ رَوَاحَۃَ بَیْنَ یَدَیْہِ وَہُوَ یَقُولُ :
خَلُّوا بَنِی الْکُفَّارِ عَنْ سَبِیلِہِ قَدْ نَزَّلَ الرَّحْمَنُ فِی تَنْزِیلِہِ
إِنَّ خَیْرَ الْقَتْلِ فِی سَبِیلِہِ نَحْنُ قَاتَلْنَاکُمْ عَلَی تَأْوِیلِہِ
کَمَا قَاتَلْنَاکُمْ عَلَی تَنْزِیلِہِ
[صحیح۔ تقدم قبلہ]
(٢١٠٣٧) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عمرہ القضاکو ادا کرنے کے لیے مکہ میں داخل ہوئے تو ابن رواحہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آگے چل رہے تھے اور کہہ رہے تھے :
اے کفار ! اس کے راستہ کو چھوڑ دو ۔
اللہ نے اس کی مہمانی فرمائی ہے، بہترین مقتول وہ ہے جو اس کے راستہ میں قتل ہو۔ اس تاویل پر ہم نے جہاد کیا۔ جب کہ ہم نے تمہارے ساتھ لڑائی کی اس کے مہمان کے ساتھ مل کر۔