hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 21045

.

سنن البيهقي

21045
Sunan Al Bayhaqi
(۲۱۰۳۹) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَنْبَأَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَنْبَأَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ قَالاَ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عِکْرِمَۃَ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَسِیرُ إِلَی الشَّامِ فَسَمِعَ حَادِیًا مِنَ اللَّیْلِ فَقَالَ : أَسْرِعُوا بِنَا إِلَی ہَذَا الْحَادِی ۔ قَالَ : فَأَسْرَعُوا حَتَّی أَدْرَکُوہُ فَسَلَّمَ فَقَالَ : مَنِ الْقَوْمُ؟ ۔ قَالُوا : مُضَرُ۔ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : وَنَحْنُ مِنْ مُضَرَ ۔ قَالَ : فَبَلَغَ تِلْکَ اللَّیْلَۃَ بِالنِّسْبَۃِ إِلَی مُضَرَ فَقَالَ رَجُلٌ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّا أَوَّلُ مَنْ حَدَا الإِبِلَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ قَالَ فَکَیْفَ ذَاکَ قَالَ : أَغَارَ رَجُلٌ مِنَّا عَلَی إِبِلٍ فَاسْتَاقَہَا فَجَعَلَ یَقُولُ لِغُلاَمِہِ أَوْ لأَجِیرِہِ اجْمَعْہَا فَیَأْبَی فَجَعَلَتِ الإِبِلُ تَفَرَّقُ فَضَرَبَہُ وَکَسَرَ یَدَہُ فَجَعَلَ الْغُلاَمُ یَقُولُ وَایَدَاہْ وَایَدَاہْ فَجَعَلَتِ الإِبِلُ تَجْتَمِعُ وَہُوَ یَقُولُ قُلْ کَذَا قَالَ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَضْحَکُ قَالَ سُفْیَانُ۔ وَزَادَ فِیہِ الْعَلاَئُ بْنُ عَبْدِ الْکَرِیمِ عَنْ مُجَاہِدٍ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : إِنَّ حَادِیَنَا وَنَی ۔ [ضعیف]
(٢١٠٣٩) حضرت عکرمہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہشام کی طرف جا رہے تھے۔ راستہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سواریوں کے چلانے والے کی آواز سنی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے جلدی اس حدی خاں کے پاس لے چلو۔ راوی کہتے ہیں : انھوں نے جلدی کی اور وہاں تک جا پہنچے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلام کہا۔ پوچھا : کون سی قوم ہے ؟ انھوں نے جواب دیا : مضر۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہمارا تعلق بھی مضر سے ہے۔ راوی فرماتے ہیں کہ اس رات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی نسبت مضر کی طرف کی۔ ایک آدمی نے کہا : اے اللہ کے رسول ! دور جاہلیت سب سے پہلیحدی خاں کا کام کس نے کیا ؟ فرمایا : وہ کیسے ؟ ایک آدمی نے ہمارے اونٹ چرائے اور ان کو چلا۔ وہ اپنے غلام یا ضرور سے کہہ رہا تھا، ان کو جمع کرو۔ اس نے انکار کردیا۔ اونٹ بکھر گئے۔ اس کا اونٹ کو مارنے کی وجہ سے ہاتھ ٹوٹ گیا تو غلام کہنے لگا : ہائے میرا ہاتھ، ہائے میرا ہاتھ۔ اونٹ جمع ہو رہے تھے، وہ کہہ رہا تھا۔ اس طرح کہہ ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنس رہے تھے۔
(ب) مجاہد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ ہماری سواریوں کو چلانے والے سست چلاتے تھے۔