(۲۱۰۵۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَنْبَأَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ زِیَادٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ قُرَیْشٍ قَالاَ أَنْبَأَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ وَصَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ قَالاَ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ رَافِعٍ حَدَّثَنِی ابْنُ أَبِی مُلَیْکَۃَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ : قَدِمَ عَلَیْنَا سَعْدُ بْنُ مَالِکٍ فَأَتَیْتُہُ مُسَلِّمًا فَنَسَبَنِی فَانْتَسَبْتُ فَقَالَ : مَرْحَبًا بِابْنِ أَخِی بَلَغَنِی أَنَّکَ حَسَنُ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : إِنَّ ہَذَا الْقُرْآنَ نَزَلَ بِحُزْنٍ فَإِذَا قَرَأْتُمُوہُ فَابْکُوا فَإِنْ لَمْ تَبْکُوا فَتَبَاکَوْا ۔
لَفْظُ حَدِیثِ السُّلَمِیِّ وَفِی رِوَایَۃِ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ قَالَ: قَدِمَ عَلَیْنَا سَعْدُ بْنُ أَبِی وَقَّاصٍ وَقَدْ کُفَّ بَصَرُہُ فَأَتَیْتُہُ مُسَلِّمًا فَقَالَ: مَنْ أَنْتَ؟ فَأَخْبَرْتُہُ فَقَالَ : یَا ابْنَ أَخِی فَذَکَرَہُ وَزَادَ فِی آخِرِہِ : وَتَغَنَّوْا بِہِ فَمَنْ لَمْ یَتَغَنَّ بِہِ فَلَیْسَ مِنَّا۔ [ضعیف]
(٢١٠٥٨) عبدالرحمن بن سائب فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس سعد بن مالک آئے۔ میں ان کو سلام کرتے ہوئے ان کے پاس آیا۔ اس نے مجھے اپنا نسب بیان کیا اور میں نے ان کو اپنا نسب بیان کیا، اس نے کہا : بھتیجے کو خوش آمدید ہو۔ کہنے لگے : مجھے معلوم ہوا ہے، آپ خوبصورت آواز والے ہیں۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، یہ قرآن سخت جگہ پر نازل ہوا ہے، جب تم اس کی تلاوت کرو تو رویا کرو۔ اگر رو نہ سکو تو رونے والی شکل بنا لو۔
(ب) سلمی کی حدیث میں ہے کہ سعد بن ابی وقاص کی نظر جب چلی گئیتو میں ان کو سلام کہتے ہوئے ان کے پاس حاضر ہوا۔ پوچھا : تو کون ہے ؟ میں نے ان کو خبر دی تو فرمایا : ایبھتیجے !۔۔ اس کے آخر میں ہے جو خوش الحانی سے نہیں پڑھتا اس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔